صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 129
صحیح البخاری جلد ۹ يُعِيدُ۔۶۴ - کتاب المغازی جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا اور فرماتے: حق آگیا ہے اور باطل بھاگ گیا ہے۔حق آگیا ہے اور باطل (کوئی چیز ) پیدا نہیں کرتا اور نہ کسی ہلاک شدہ چیز کو واپس لا سکتا ہے۔اطرافه ٢٤٧٨، ٤٧٢٠ - ٤٢٨٨: حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ حَدَّثَنَا :۴۲۸۸ اسحاق بن منصور نے مجھے بتایا کہ عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنِي عبد الصمد نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) میرے أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ باپ نے مجھ سے بیان کیا کہ ایوب (سختیانی) نے اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ مجھے بتایا۔انہوں نے عکرمہ سے، عکرمہ نے رَضِيَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ رسول الله صلى اللی کام جب مکہ میں آئے، آپ بیت اللہ أَبَى أَنْ يَدْخُلَ الْبَيْتَ وَفِيْهِ الْآلِهَةً میں داخل ہونے سے رُک گئے۔کیونکہ اس کے فَأَمَرَ بِهَا فَأُخْرِجَتْ فَأُخْرِجَ صُوْرَةُ اندر (دیویاں دیوتے) بت پڑے ہوئے تھے۔إِبْرَاهِيْمَ وَإِسْمَاعِيلَ فِي أَيْدِيهِمَا مِنَ آپ نے ان کی نسبت حکم دیا۔وہ نکال دیئے گئے۔الْأَزْلَامِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ پھر حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل کی مورتیاں وَسَلَّمَ قَاتَلَهُمُ اللهُ لَقَدْ عَلِمُوا مَا بھی نکال دی گئیں، جن کے ہاتھ میں پانسے (یعنی اسْتَقْسَمَا بِهَا قَطُّ ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ فال نکالنے ) کے تیر تھے۔نبی صلی اللہ ہم نے یہ دیکھ کر كَبَّرَ فِي نَوَاحِي الْبَيْتِ وَخَرَجَ وَلَمْ فرمایا: اللہ ان مشرکوں کو ہلاک کرے، انہیں علم ہے کہ ان دونوں نے ان کے ذریعہ کبھی فال نہیں لی۔يُصَلِّ فِيْهِ۔اس کے بعد آپ بیت اللہ میں داخل ہوئے اور بیت اللہ کے (چاروں) کونوں میں تکبیر کہی اور باہر آئے۔آپ نے وہاں نماز نہیں پڑھی۔تَابَعَهُ مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ۔وَقَالَ (عبد الصمد کی طرح) اس حدیث کو معمر نے بھی وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ایوب سے روایت کیا۔اور وہیب ( بن خالد ) نے یوں کہا: ایوب نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عکرمہ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔اطرافه ۳۹۸، ۱۹۰۱، ۳۳۵۱، ٣٣٥٢۔سے، عکرمہ نے نبی صلی اللی علم سے روایت کی۔