صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 128
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۲۸ ۶۴ - کتاب المغازی بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمُوا خيف بنی کنانہ میں ہو گا جہاں قریش نے کفر پر آپس میں قسمیں کھائی تھیں۔عَلَى الْكُفْرِ۔أطرافه ١٥٨٩، ۱۵۹۰، ۳۸۸۲، ٤٢٨٤، ٧٤٧٩۔٤٢٨٦: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ قَزَعَةَ :۴۲۸۶: يحي بن قزعہ نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ مالک نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابن شہاب سے، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے مَكَّةَ يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى رَأْسِهِ الْمِغْفَرُ روز مکہ میں داخل ہوئے اور آپ کے سر پر خود فَلَمَّا نَزَعَهُ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ ابْنُ خَطَل تھا۔جب آپ نے اس کو اُتارا تو ایک شخص آیا، مُتَعَلَّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ اقْتُلُهُ کہنے لگا: (عبد اللہ ) بن خطل کعبہ کے پردوں قَالَ مَالِكٌ وَلَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى الله سے لڑکا ہوا ہے۔آپ نے فرمایا: اس کو قتل کر دو۔مالک نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کہ سمجھتے ہیں اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے اُس دن عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْمَا نَرَى وَاللَّهُ أَعْلَمُ يَوْمَئِذٍ مُحْرِمًا۔اطرافه: ١٨٤٦، ٣٠٤٤، _OA-A احرام میں نہیں تھے۔٤٢٨٧: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ ۴۲۸۷: صدقہ بن فضل نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيْحٍ (سفیان بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ (عبد اللہ بن ابی بیج سے، انہوں نے مجاہد سے، مجاہد نے ابو معمر سے ، ابو معمر نے حضرت عبد اللہ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ (بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ يَوْمَ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح کے روز مکہ میں الْفَتْحِ وَحَوْلَ الْبَيْتِ سِتَّوْنَ وَثَلَاثُ داخل ہوئے اور خانہ کعبہ کے اردگرد اس وقت مِائَةِ نُصْبٍ فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُوْدٍ فِي تين صد ساٹھ (۳۶۰) بت تھے۔آپ ایک لکڑی يَدِهِ وَيَقُوْلُ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ سے جو آپ کے ہاتھ میں تھی اُن کو ٹھکرانے لگے