صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 121 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 121

صحیح البخاری جلد ۹ ۱۲۱ ۶۴ - کتاب المغازی عبد امام ابن حجر نے مذکورہ بالا فریاد نقل کر کے لکھا ہے کہ ہزار نے بسند ابی سلمہ حضرت ابو ہریرہ سے نقل کیا ہے کہ بلحاظ سند یہ فریاد والی روایت صحیح ہے اور اس بارہ میں روایت موصول وحسن ہے۔ علاوہ ازیں طبرانی ہے بد الرزاق کے اور ابن ابی شیبہ نے بھی یہی واقعہ اور اشعار نقل کئے ہیں۔ (فتح الباری جزءے صفحہ ۶۵۱،۶۵۰) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ۔ علیہ وسلم نے مہاجرین وانصار اور قبائل میں سے دس ہزار مجاہدین کا لشکر مجاہدین کا لشکر تیار کیا اور اس میں یہ احتیاط فرمائی کہ ان میں سے اکثر جہت سفر اور مقصود سے بے خبر رکھے گئے اور سفر سے پہلے ناکہ بندی کا اہتمام کیا گیا تاکہ مکہ والوں کو کانوں کان خبر نہ ہو۔ ابو سفیان کو قریش کی غداری ون کی غداری و نقض معاہدہ کا خدشہ تھا۔ تھا۔ صلح حدیبیہ کے وقت وہ بغرض تجارت ملک شام کو گیا ہوا تھا اور اسے اپنی عزت کا بھی احساس تھا کہ اس کے مشورہ کے بغیر معاہدہ طے ہوا۔ یہ سمجھ کر کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تازہ واقعہ شب خون سے ناواقف ہیں، مدینہ میں آکر اپنی شمولیت کی غرض سے تجدید و توثیق معاہدہ کی خواہش کا اظہار کیا جس سے اس کی غرض یہ تھی کہ قریش مکہ غداری کے بد نتائج سے محفوظ ہو جائیں۔ بمقام عسفان بدیل بن ورقاوغیرہ اُسے ملے۔ اس کے دریافت کرنے پر انہوں نے ٹال دیا اور اس پر ظاہر نہیں ہونے دیا کہ وہ کدھر سے آرہے ہیں اور مدعائے سفر کیا تھا۔ ابوسفیان مدینہ میں اپنی بیٹی حضرت ام حبیبہ کے ہاں ٹھہرا اور اپنی بیٹی سے، نیز حضرت ابو بکر و حضرت عمر و حضرت علیؓ سے اپنی آمد کی غرض بیان کی کہ معاہدہ صلح حدیبیہ پر اس کے دستخط ہونے ضروری ہیں۔ ورنہ وہ معاہدہ پختہ نہیں۔ لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ان اصحاب نے التفات نہیں کی۔ مایوس ہونے پر حضرت علیؓ سے ذکر کیا تو انہوں نے مشورہ دیا کہ مسجد نبوی میں جاکر وہ خود ہی توثیق معاہدہ کا اعلان کر دے یہ کافی ہوگا۔ چنانچہ اس مشورہ کے مطابق عمل کر کے ابو سفیان واپس چلا گیا اور قریش مکہ کو اپنے اس کارنامہ کی اطلاع دی۔ وہ ہنسے کہ علی نے اسے بیوقوف بنایا ہے۔ یک طرفہ اعلان توثیق بے معنی ہے۔ یہ واقعہ تاریخ کا ہے۔ تفصیل کیلئے سیرت ابن ہشام کے اور طبقات کبری لابن سعد سے ملاحظہ کریں۔ موسی بن عقبہ نے بھی جو مؤلفین مغازی میں سے نہایت ثقہ مانے گئے ہیں، مذکورہ بالا واقعہ نقل کیا اور لکھا ہے کہ بنو بکر و بنو دیل کی مدد کرنے والوں میں صفوان بن امیہ ، شیبہ بن عثمان اور سہل بن عمر و شامل تھے اور یہ رؤساء مکہ میں سے ذمہ دار لوگ تھے۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۶۵۱) بنو خزاعہ کے خلاف انہیں رنج تھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مدد پہلے بھی کیا کرتے تھے اور اب قریش کو چھوڑ کر مدینہ والوں کے اعلانیہ حلیف بن گئے ہیں۔ ا (المعجم الصغير للطبراني، باب الميم، من اسمه محمد، روایت نمبر ۹۶۸، جزء ۲ صفحہ ۱۶۷) (مصنف عبد الرزاق، کتاب المغازی، غزوة الفتح، جزء ۵ صفحه ۳۷۴) (مصنف ابن ابي شيبة، كتاب المغازی، حدیث فتح مكة، جزء ی صفحه ۳۹۸ تا ۴۰۱) كتاب الخراج لأبي يوسف، فصل فى قتال أهل الشرك، جزء اول صفحه (۲۳۲) (السيرة النبوية لابن هشام، ذكر الأسباب الموجبة المسير الى مكة، أبو سفيان يطلب الصلح، جزء ۴ صفحہ ۳۶) الطبقات الكبرى لابن سعد، مغازی رسول الله ، غزوة رسول الله ﷺ عام الفتح، جزء ۲ صفحه ۱۲۴)