صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 122 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 122

۱۳۲ صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی مذکورہ بالا واقعہ ایسے وقت میں رونما ہوا کہ تیاری کرتے کراتے رمضان کا مہینہ شروع ہو گیا جس میں مکہ مکرمہ پر چڑھائی کی گئی۔آب و تیر پر جھگڑا ہونا، خزاعی شخص کا مارا جانا، قدیم عداوتوں کی آگ بھڑک اٹھنا، قریش کے اپنے حلیفوں کی مدد میں عقل و خرد کھو بیٹھنا، معاہدہ صلح حدیبیہ نظر انداز کر کے ان کی مدد کرنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خزاعہ کی فریاد پر اُن کی مدد کے لئے رمضان میں کوچ کرنا۔یہ ساری باتیں محض اتفاقی نہیں بلکہ اس مشیت و تقدیر الہی کی ترجمانی کرتی ہیں جس کی قبل از وقت نبی اکرم صلی اللہ ہم کو بذریعہ وحی ان الفاظ میں اطلاع دی گئی تھی: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَتِ مِنَ الْهُدى وَالْفُرْقَانِ - (البقرة: ۱۸۷) بدر والا پہلا یوم فرقان بھی رمضان میں ہی تھا اور فتح مکہ والا آخری یوم فرقان بھی رمضان میں۔یہ مہتم بالشان حادثے قطعا اتفاق پر مبنی نہیں اور نہ انسان کے ارادہ و قصد کا ان سے تعلق ہے۔مدینہ والوں میں سے کسی نے اہل مکہ کو مشورہ نہیں دیا تھا کہ شعبان میں فلاں فلاں شرارت کرو تا نقض معاہدہ کی وجہ سے تم پر حملہ ہو اور رمضان سے متعلق فرقان والا نشان پورا ہو۔عنوانِ باب غَزْوَةُ الْفَتح سے اسی یوم الفرقان والی نشانی کا پتہ چلتا ہے۔جس طرح دس ہزار مجاہدین کی معین تعداد کے ذکر سے دس ہزار قدوسیوں والے نشان کا علم ہوتا ہے۔جس کا ذکر حضرت سلیمان علیہ السلام نبی کی پیشگوئی میں بھی ہے۔(غزل الغزلات باب ۵: ۱۰ تا ۱۴) دونوں باتیں پیشگوئی کی صورت رکھتی ہیں اور عالم الغیب کے علم سے متعلق ہیں اور تقدیر الہی سے وہ ظہور پذیر ہوئیں۔ان کے درمیان توافق و تطابق اتفاقی حادثہ نہیں ہو سکتا۔بالفرض اگر یہ سمجھا جائے کہ مجاہدین کی تعداد کا تعین اور رمضان میں کوچ دونوں باتیں ارادہ و قصداً عمل میں لائی گئیں تو اس سے بھی یوم الفرقان کی عظمت میں کوئی فرق نہیں آتا بلکہ اس نشان کی شوکت کو بڑھاتا ہے۔غایت درجہ ضعف کے حالات میں پیشگوئی کے مطابق فتح پا جانا خود ایک ایمان افروز واقعہ ہے۔الہی منشاء و تقدیر کو پورا کرنے کی کوشش اور اس کوشش میں توفیق پاتا اور اس میں کامیاب ہو جانا محل اعتراض نہیں۔ہر رمضان اس عظیم الشان واقعہ غزوہ بدر اور فتح مکہ کی ہمیں یاد دلاتا اور ذات باری تعالیٰ کی قدرت نمائی سے متعلق ایمان تازہ کرتا ہے۔شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِی انْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَةٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ (البقرة: ۱۸۲) اس مبارک مہینہ میں حق و باطل کے درمیان فرق کر دینے والا نشان نہ ایک دفعہ بلکہ دو دفعہ ظاہر ہوا۔روایت نمبر ۴۲۷۸ کے الفاظ وقالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ سے امام احمد بن حنبل کی روایت کا حوالہ دیا گیا ہے۔جس کا تعلق رمضان میں کوچ کرنے سے ہے اور یہ کہ آپ ایک جوہر کے پاس سے گزرے۔وَقَالَ حَمَّادُ ل ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "رمضان کا مہینہ جس میں قرآن انسانوں کے لیے ایک عظیم ہدایت کے طور پر اُتارا گیا اور ایسے کھلے نشانات کے طور پر جن میں ہدایت کی تفصیل اور حق و باطل میں فرق کر دینے والے امور ہیں۔“ (مسند احمد بن حنبل، مسند بنی هاشم مسند عبد الله بن العباس ، جزء اول صفحه (۳۶۶)