صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 120
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۲۰ ۶۴ - کتاب المغازی وجہ سے خانہ جنگی کی یہ آگ کچھ مدت تک مدھم رہی۔ قبیلہ بنو بکر کی شاخ بنی دیل بھی ان لڑائیوں میں شریک تھی۔ و تیر نامی چشمہ کی بابت بنو دیل کا بنو خزاعہ سے جھگڑا ہو گیا اور نوفل بن معاویہ سردار بنی دیل نے کسی پرانے انتقام میں ایک خزاعی شخص منبہ کو قتل کر دیا۔ جس پر دونوں قبیلوں کے درمیان لڑائی کی آگ بھڑک اُٹھی۔ قبیلہ بنو بکر نے بنو دیل کا ساتھ دیا اور بنو خزاعہ پر شب خون مارا۔ جس میں قریش نے اپنے حلیف قبیلوں کی خفیہ طور پر اسلحہ اور اپنے آدمیوں سے مدد کی اور یہ معاہدہ صلح حدیبیہ کے خلاف تھا۔ بنو خزاعہ نے حرم میں پناہ لی مگر وہ وہاں بھی قتل کئے گئے اور بیت اللہ کی حرمت کا پاس نہ رکھا گیا۔ یہ واقعہ عہد شکنی غزوہ فتح مکہ کا باعث ہوا وہ فتح مکہ کا باعث ہوا۔ بنو خزاعہ نے اپنے آپ کو مظلوم و بے بس پا کر عمر و بن سالم خزاعی کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں فریاد رسی کی غرض سے بھیجا اور اس کے پیچھے بدیل بن ورقا اور خزاعہ کے کچھ اور نمائندے بھی مدینہ پہنچے اور صورت حال سے آپ کو آگاہ کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حملے اور شب خون کے واقعات سنے اور ان کی دلجوئی کی۔ فرمایا: نُصِرْتَ يَا عَمرُو بْن سَالِم (عمر و بن سالم ! تمہاری مدد کی گئی۔) اور صبر و تحمل اور ں اور رداری سے کام لینے کی انہیں ہدایت فرمائی۔ (فتح الباری: باری جزء صفحہ ۶۵۰) ابن اسحاق نے عمرو بن خزاعی کی فریاد کے الفاظ نقل کئے ہیں جو یہ ہیں: يَارَبِّ إِنِّي نَاشِدٌ مُحَمَّدًا حِلْفَ أَبِينَا وَأَبِيهِ الْأَثْلَدًا فَانْصُرُ هَدَاكَ اللهُ نَصْرًا أَيَّدًا وَادْعُ عِبَادَ اللَّهِ يَأْتُوا مَدَدًا إِنَّ قُرَيْشًا أَخْلَفُوْكَ الْمَوْعِدًا وَنَقَضُوا مِيثَاقَكَ الْمُؤَلَّدَا هُمْ بَيَّتُونَا بِالْوَتِيرِ هُجَّدَا وَقَتَلُوْنَا رُكَعًا وَسُجَّدًا وَزَعَمُوا أَن لَّسْتُ أَدْعُو أَحَدًا وَهُمْ أَذَلُّ وَأَقَلُّ عَدَدَا من الله ( فتح الباری جزءے صفحہ ۶۵۰) ان کا ترجمہ یہ ہے: اے میرے رب ! میں محمد (صلی ال کو وہ قدیم معاہدہ یاد دلا کر اس کا واسطہ دیتا ہوں جو ہمارے اور اس کے باپ دادا کے درمیان ہوا تھا۔ سو ہماری مدد کر ، اللہ تجھے توفیق دے، ایسی مد د جو قوی ہو۔ بندگان خدا کو بلا کہ وہ مدد کو آئیں۔ قریش نے وعدہ کی خلاف ورزی کی ہے۔ تیرے پختہ عہد کو توڑا ہے ہم پر شب خون مارا ہے جبکہ و تیر مقام پر ہم سوئے پڑے تھے۔ ہمیں قتل کیا ہے جبکہ ہم رکوع و سجدہ میں تھے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اپنی مدد کے لئے کسی کو نہیں بلائیں گے اور (خزاعہ ) بڑے کمزور اور تعداد میں بہت تھوڑے ہیں۔ ا۔ (السيرة النبوية لابن هشام ، ذِكْرُ الْأَسْبَابِ الْمُوجِبَةِ الْمَسِيرَ إِلَى مَكَّةَ وَذِكُرُ فَتْحِ مَكَّةَ، جزء ۲ صفحہ ۳۹۵) (السيرة النبوية لابن هشام ، ذكُرُ الْأَسْبَابِ الْمُوجِبَةِ الْمَسِيرَ إِلَى مَكَّةَ وَذِ كُرُ فَتْحِ مَكَّةَ ، جزء ۲ صفحہ۳۹۴، ۳۹۵)