صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 119
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۱۹ ۶۴ - کتاب المغازی ہے کہ غزوہ فتح رمضان میں نہیں بلکہ کسی اور مہینہ میں ہو ا تھا۔الفاظ عَلَی رَأْسِ ثَمَانِ سِنِينَ وَنِصْفِ کی بناء پر اگر حساب کیا جائے تو یہ رمضان کے علاوہ کوئی اور مہینہ ہو گا۔عنوان باب میں اس امر کارڈ مقصود ہے۔سال اور ماہ کا حساب انداز ہے۔ورنہ روایات اس بارہ میں متفق ہیں کہ غزوہ فتح مکہ رمضان میں ہوا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ سفر کے دوران افطار کیا تھا۔نہ صرف روایات ہی میں بلکہ قرآن مجید میں بھی ماہِ رمضان کو شَهُرُ رَمَضَانَ کی تخصیص کر کے اس سے بَيِّنَتِ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ (البقرة: ۱۸۲) مراد لیا ہے۔یعنی یہ ایسا مبارک مہینہ ہے جس میں حق و باطل کا فرق نمایاں کیا جائے گا۔چنانچہ غزوہ بدر بھی رمضان میں ہوا اور غزوہ فتح بھی اسی ماہ میں۔باب کی دوسری روایت نمبر ۴۲۷۶) میں ہم سفر مجاہدین کی تعداد دس ہزار بیان کی گئی ہے۔ابن اسحاق کی ایک روایت میں بارہ ہزار کی تعداد کا ذکر ہے۔" یہ لشکر مہاجرین و انصار و قبائل اسلم، غفار، مزینہ، جہینہ اور سلیم میں سے تیار ہوا تھا۔اس کی تائید ابن عائذ نے کی ہے اور تعداد کے بارہ میں جو اختلاف ہے اسے یوں حل کیا ہے کہ مدینہ سے کوچ کرتے وقت تو مجاہدین کی تعداد دس ہزار تھی لیکن مر الظہران پہنچتے وقت یہ تعداد بارہ ہزار تک پہنچ گئی تھی۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۷) صحف عہد قدیم میں موعودہ نبی جو صحرائے عرب میں پیدا ہونے والا تھا اس کی نسبت ان الفاظ میں نشاندہی کی گئی تھی کہ ”خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے اُن پر طلوع ہوا۔فاران ہی کے پہاڑ سے وہ جلوہ گر ہوا۔دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے رہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت اُن کے لئے تھی۔“ (کتاب مقدس مطبوعہ ۱۸۷۰ء، استثناء باب ۲:۳۳) نبی صادق سے متعلق ایک نشاند ہی تو یہ ہے جو توریت میں مذکور ہے اور دوسری نشاند ہی رمضان فرقان کی جو قرآن مجید میں بیان ہوئی ہے۔جیسا کہ تفصیلا اس بارہ میں پہلے ذکر کیا جا چکا ہے۔سورۃ الفتح کے شروع ہی میں اس فتح کی بشارت کا ذکر کیا گیا ہے۔چنانچہ فرماتا ہے: اِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحاً مبينال (الفتح (۲) ہم نے تم کو ایک کھلی کھلی فتح بخشی ہے۔دونوں باتیں نشاندہی کے عین مطابق خارق عادت طور پر پوری ہوئیں۔چنانچہ واقعہ غزوہ مکہ میں خارق عادت نشان کی ایمان افروز شان یہ تھی کہ قریش کی طرف سے معاہدہ صلح میعادی کی خلاف ورزی ایسے وقت میں ہوئی کہ اس کے لئے حملہ ماہ رمضان میں ہی ضروری ہو گیا تھا۔بتایا جاچکا ہے کہ صلح حدیبیہ کی شرطیں کھلے ہونے پر بنو خزاعہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موالات کا عہد و پیمان کیا اور وہ آپ کے حلیف بنے اور بنو بکر قریش کے اور یہ دونوں قبیلے قدیم سے ایک دوسرے کے حریف تھے۔زمانہ جاہلیت میں ان کی ایک دوسرے سے لڑائیاں ہوتی رہیں۔جن میں فریقین کے آدمی قتل ہوئے اور سلسلہ ثار و انتقام قائم رہا۔اسلامی جنگوں میں مشغول ہونے کی (السيرة النبوية لابن هشام، ذكر فتح مكة ، نُزُولُهُمْ مَنَ الظَّهَرَانِ، جزء ۲ صفحه ۲۰۰)