صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 118 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 118

صحيح البخاری جلد ۹ IIA ۶۴ - کتاب المغازی روایت معمر کی ہے۔یہ فرق سن کے شمار میں کمی بیشی ہونے کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ورنہ درست یہی ہے کہ ہجرت سے سات سال اور چھ ماہ گزرنے پر غزوہ فتح مکہ کا واقعہ پیش آیا تھا۔معلوم ہوتا ہے کہ معمر نے پہلے محرم سے من محسوب کیا ہے۔دو تین مہینے جو اس پر گزرے ہیں وہ نظر انداز کر کے اس سال کو آٹھویں ہجری کا شروع قرار دیا ہے۔اس بارے میں ان کے الفاظ یہ ہیں: وَذَلِكَ عَلَى رَأْين ثَمَانِ سِنِينَ وَيُضف اس سے ان کی مراد دراصل عَلَى رَأْسِ سَبْعِ سِنِينَ وَنِصْفٍ ہے۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۷۶) یعنی ساڑھے آٹھ سال سے دراصل ساڑھے سات سال مراد ہیں جو آٹھویں ہجری کا سال ہے۔باب کی تیسری روایت (نمبر۴۲۷۷) میں الفاظ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَمَضَانَ إِلَى حُنَيْنِ سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ غزوہ حنین کا واقعہ تو فتح مکہ کے بعد کا ہے۔اس کا ذکر کیوں کیا؟ لیکن بقول حضرت ابن عباس آپ غزوہ مکہ کے لئے دسویں رمضان کو نکلے تھے لے اور مکہ مکرمہ میں رمضان کے وسط میں پہنچے ہوں گے اور آپ کا وہاں قیام انیس دن تھا۔رمضان کا مہینہ تو وہیں ختم ہو گیا اس لئے حنین کی طرف رمضان میں کیسے نکل سکتے تھے۔امام ابن حجر کے نزدیک ان الفاظ سے صرف یہ مراد ہے کہ جس رمضان میں غزوہ مکہ کے لئے کوچ ہوا تھا، اس کے بعد غزوہ حسین ہوا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحہ ۷ فقره إلى حُنین میں حرف إِلَى ظرف زمان ہے نہ ظرف مکان۔یعنی وہ زمانہ جس میں حسنین کا واقعہ پیش آیا تھا۔پانچویں روایت میں سفر کے راستہ کی تصریح ہے۔عسفان شام ومکہ کے تجارتی راستہ پر واقع ہے۔اس راستہ پر سفر کرنے والے کو حسنین سے نہیں گزرنا پڑتا بلکہ مدینہ سے مکہ کی طرف سیدھے راستہ سے آنے والے کو ابواء، رابغ اور عسفان سے گزرنا پڑتا ہے۔غزوہ حنین جبل اوطاس کے دروں اور پیچیدہ وادیوں کے قریب واقع ہوا تھا۔فتح مکہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے طائف کا قصد کیا اور اپنی نقل و حرکت کا مقصد مخفی رکھنے کی غرض سے نخلہ یمانیہ اور قرآن کا رخ کیا اور مقام لیہ پر پہنچے، جو طائف کے جنوب مشرق میں چند میل کے فاصلہ پر ہے اور پھر یہاں سے آپ طائف کا محاصرہ کرنے کے لئے بڑھے۔سے طائف سے اور اس کا محل وقوع شمال مشرق میں تیس چالیس میل کے فاصلہ پر ہے۔آنحضرت علی علیہ کے شمال مشرق کی جہت کا سفر اختیار کرتے ہوئے طائف پہنچے۔اس تفصیل سے ظاہر ہے کہ حنین کا محل وقوع اُس جہت میں نہیں جہاں سے آپ نے مکہ مکرمہ کے لئے کوچ کیا۔الفاظ میں اختصار ہے اور امام ابن حجر کی مذکورہ بالا تشریح درست ہے کہ جس رمضان میں غزوہ مکہ کے لیے کوچ ہوا اس کے بعد غزوہ حنین ہوا۔عنوان باب غَزْوَةُ الْفَتْحِ فِي رَمَضَان جملہ اسمیہ ہے اور اثبات میں ہے۔اس جملہ سے اس خیال کی نفی کی گئی (مسند احمد بن حنبل، مسند عبد الله بن العباس، جزء اول صفحہ ۲۶۶) (عمدة القارى، كتاب التفسير سورة آل عمران، باب وَلَتَسْمَعُنَ مِنَ الَّذِينَ أُوتُوا الكِتَابَ) (معجم المعالم الجغرافية فى السيرة النبوية، لية، صفحه ۲۷۴)