صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 114
صحيح البخاری جلد ۹ االم ۶۴ - کتاب المغازی حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کے باپ کا نام عمرو ہے اور بقول سہیلی وہ عبد اللہ بن حمید بن زہیر بن اسد بن عبد العزیٰ کے حلیف تھے۔مسند احمد بن حنبل کی روایت میں كُنتُ امْرَأَ ملصقا کے الفاظ کی جگہ كُنْتُ عَزِيزًا کے الفاظ وارد ہوئے ہیں۔یعنی میں اجنبی تھا۔قریش سے قرابت کا تعلق نہ تھا بلکہ ان میں بطور حلیف رہتا تھا۔ابن اسحاق کی روایت میں ہے: كَانَ لِي بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ وَلَدٌ وَأَهْلُ فَصَانَعْتُهُمْ عَلَيْهِ۔میرے بیوی بچے قریش کے پاس تھے ، اس وجہ سے میں نے اُن کے ساتھ رکھ رکھاؤ کی صورت پیدا کی۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۶۵۲) روایت نمبر ۴۲۷۴ کے آخر میں آتا ہے: فَأَنْزَلَ اللهُ السُّورَةَ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا۔۔۔۔(الممتحنة: ٢) ان الفاظ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سورۃ حضرت حاطب کے واقعہ پر نازل ہوئی۔جس کا آغاز مذکورہ بالا آیت سے ہوتا ہے۔لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ سورۃ صلح حدیبیہ کے بعد اور فتح مکہ سے قبل نازل ہوئی تھی اور اس کی آخری آیات میں مکہ مکرمہ سے آنے والی عورتوں کے پر کھنے اور ان کی نسبت تسلی کرنے کا ذکر ہے مبادا وہ کسی دنیوی غرض سے آئی ہوں۔اس سورۃ میں معاشرہ بشریہ کے تعلقات کی استواری اور حسن معاملہ سے متعلقہ اعلیٰ اخلاقی اصول بیان ہوئے ہیں۔اس لئے الفاظ فَأَنْزَلَ الله السُّورَةَ کو مطلق تطبیق واقعہ پر محمول کرنا نامناسب ہے۔کیونکہ حضرت حاطب کا واقعہ آٹھویں ہجری کا ہے اور سورۃ کے نزول کا تعلق اس سے قبل زمانہ کا ہے اور اس سورۃ کے مضمون میں بہت وسعت ہے۔حضرت حاطب کے واقعہ سے اسے مخصوص نہ سمجھا جائے۔ورنہ نفس مضمون غایت درجہ محدود ہو جاتا ہے۔آیات ۱۲،۱۱ پر غور کریں تو ان کا تعلق واقعہ حاطب سے کچھ نہیں۔بلکہ کفار کی عورتوں یا مسلم خواتین، ان کے حقوق کی نگہداشت اور ان کی جانچ پڑتال سے ہے۔نیز اس عام اخلاقی تعلیم سے ہے جس کا تعلق معاشرہ کی استواری سے ہے۔علاوہ ازیں ان بعض واقعات سے ہے جو صلح حدیبیہ کے تھوڑے عرصہ بعد رونما ہوئے تھے۔اس تعلق میں دیکھئے کتاب المغازی تشریح باب ۳۵۔بَاب ٤٧ : غَزْوَةُ الْفَتْحِ فِي رَمَضَانَ غزوہ فتح مکہ کے لئے کوچ ) رمضان میں ہوا ٤٢٧٥ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوْسُفَ ۴۲۷۵: عبد اللہ بن یوسف (تنیسی) نے ہمیں بتایا حَدَّثَنَا اللَّيْثُ حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنِ ابْنِ که لیث بن سعد) نے ہم سے بیان کیا۔(انہوں شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ نے کہا :) عقیل ( بن خالد ) نے مجھے بتایا کہ ابن عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ شہاب سے مروی ہے۔انہوں نے کہا: عبید اللہ بن۔(مسند احمد بن حنبل، مسند، جابر بن عبد الله، جزء ۳ صفحه ۳۵۰) السيرة النبوية لابن هشام، ذكر فتح مكة، كتاب حاطب إلى قريش، جزء ۲ صفحه ۳۹۹)