صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 113
صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی ج وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُم مِّنَ الْحَقِّ إِلَى تم تو ان کی طرف محبت کے پیغام بھیجتے ہو۔حالانکہ قَوْلِهِ فَقَدْ ضَلَّ سَوَاءَ السَّبِيلِ وہ اس حق کے منکر ہیں جو تمہاری طرف آیا ہے۔(الممتحنة: ۲) وہ تم کو بھی اور رسول کو بھی صرف اس لئے کہ تم سب اللہ پر جو تمہارا رب ہے ایمان لائے ہو، (لڑنے کے لئے گھروں سے) نکالتے ہیں۔اگر تم میرے رستہ میں کوشش کرنے اور میری رضا جوئی کے لئے نکلو تو تم میں سے بعض چوری چوری ان کی طرف محبت کا پیغام بھیجتے ہیں اور میں خوب جانتا ہوں اس کو جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو اور جو کوئی تم میں سے ایسا کام کرے وہ سمجھ لے کہ وہ سیدھے رستہ سے بھٹک گیا۔اطرافه ۳۰۰۷، ۳۰۸۱، ۳۹۸۳، ۱۸۹۰، ٢٥۹، ٦٩٣٩- تشریح : غَزْوَةُ الْفَتْح: اس باب کا تعلق غزوہ فتح مکہ کی تیاری اور راز داری سے ہے۔ابن ابی شیبہ میں ہے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ مکہ مکرمہ سے متعلق عزم کر لیا تو حضرت عائشہ سے فرمایا: جَهْزِينِي وَلَا تُعْلِمنُ بِذَلِكَ أَحَدًا۔میرے سفر کی تیاری کرو اور کسی کو اس کا علم نہ ہونے دو۔گھر میں غیر معمولی نقل و حرکت دیکھ کر حضرت ابو بکر کو شبہ ہوا اور آنحضرت صلی نام سے عرض کیا کہ معیادی صلح کی مدت ابھی ختم نہیں ہوئی ہے، یہ تیاری کیسی؟ آنحضرت صلی ایک نے قریش مکہ کی غداری سے انہیں مطلع کیا اور فرمایا: راستوں کی ناکہ بندی کی جائے تا کوئی شخص قریش کو آپ کی تیاری کا علم نہ دے سکے۔( فتح الباری جزءے صفحہ ۶۵۱) حاطب بن ابی بلتعہ کے خط لکھنے اور مزنی عورت کے ہاتھ اسے بھیجنے کا واقعہ کتاب الجہاد، زیر باب ۱۴۱ (روایت نمبر ۷ ۳۰۰ میں ) بھی گزر چکا ہے۔غزوات و مہمات سے متعلق بالعموم آپ نے اخفاء و احتیاط سے کام لیا۔جس سے بڑا فائدہ یہ ہوا کہ دشمن کو تیاری اور مقابلہ کا کم موقع ملا۔سراسیمہ وار بھاگ کر اس نے اپنی جان بچائی اور خون ریزی بہت کم ہوئی۔غزوہ مکہ میں بھی یہی طریق اختیار کیا گیا تھا۔یہ غزوہ بھی ماہ رمضان میں ہوا جو قرآن کریم میں شہر فرقان کے وصف سے موسوم ہے۔غزوہ بدر کے باب میں اس وصف کی توجیہ گزر چکی ہے۔(کتاب المغازی، تشریح باب ۳) اگلے باب کا عنوان شهر فرقان سے ہی قائم کیا گیا ہے جو اس ماہ کا امتیازی نام ہے۔(مصنف ابن ابی شیبة، کتاب المغازی، حدیث فتح مكة، جزء صفحه ۳۹۸)