صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 111
صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی بَاب ٤٦ : غَزْوَةُ الْفَتْحِ غزوه فتح (مکه) وَمَا بَعَثَ بِهِ حَاطِبُ بْنُ أَبِي بَلْتَعَةَ اور جو حاطب بن ابی بلتعہ نے اہل مکہ کو (خط) بھیجا إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِغَزْوِ النَّبِيِّ تھا۔ جس میں انہوں نے اُن کو نبی کریم صلی اللہ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔ علیہ وسلم کے حملہ کرنے کی خبر دی تھی۔ ٤٢٧٤ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۴۲۷۴: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا کہ عمرو بن دینار قَالَ أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَنَّهُ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: حسن بن محمد سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي رَافِعٍ يَقُولُ (بن علی نے مجھے خبر دی کہ انہوں نے عبید اللہ سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ بن ابی رافع سے سنا۔ وہ کہتے تھے : میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا۔ انہوں نے کہا: رسول اللہ بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے زبیر اور مقداد کو بھیجا۔ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ فَقَالَ آپؐ نے فرمایا: تم چلے جاؤ، یہاں تک کہ جب انْطَلِقُوْا حَتَّى تَأْتُوْا رَوْضَةَ خَالٍ فَإِنَّ روضه خاخ میں پہنچو تو وہاں ایک عورت ہو دہ بِهَا ظَعِيْنَةً مَّعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوا مِنْهَا میں سوار ہو گی اس کے پاس ایک خط ہے وہ اس قَالَ فَانْطَلَقْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى سے لے لو۔ کہتے تھے: ہم چل پڑے۔ ہمارے أَتَيْنَا الرَّوْضَةَ فَإِذَا نَحْنُ بِالظَّعِيْنَةِ گھوڑے سر پٹ دوڑتے ہوئے ہمیں لے گئے۔ یہاں تک کہ ہم اس روضہ (باغ) میں پہنچے ۔ کیا قُلْنَا لَهَا أَخْرِجِي الْكِتَابَ قَالَتْ مَا دیکھتے ہیں کہ وہاں ایک سوار عورت ہے۔ ہم نے مَعِي كِتَابٌ فَقُلْنَا لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ اسے کہا کہ خط نکالو۔ کہنے لگی: میرے پاس تو کوئی أَوْ لَنُلْقِيَنَّ الثَّيَابَ قَالَ فَأَخْرَجَتْهُ خط نہیں۔ ہم نے کہا: خط نکالنا ہو گا ورنہ ہم کپڑے مِنْ عِقَاصِهَا فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُوْلَ اللهِ اُتاریں گے۔ (حضرت علیؓ) نے کہا: (یہ سن کر ) صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِيْهِ مِنْ اس نے اپنے جوڑے میں سے اسے نکالا۔ ہم وہ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ بِمَكَّةَ خط لے کر رسول الله صل الله اللہ صلی علی روم کے پاس آئے۔ اس خط