صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 110
11+ ۶۴ - کتاب المغازی صحیح البخاری جلد ۹ یہ باب دراصل تمہید ہے ابواب فتح مکہ کے لئے۔( باب ۴۶ تا ۵۳) حرقات وغیرہ قبائل سے مخصوص مہمات بھی دراصل اس آخری فتح و ظفر مبین کے لئے تمہید ہی تھیں جس کا پرچم امن و اسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ہاتھوں وادی مکہ میں بلند ہوا اور لہرایا گیا۔مذکورہ بالا تاریخی واقعات کا پس منظر مد نظر رکھتے ہوئے ان ابواب کی ترتیب پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہو جائے گا کہ عنوانِ باب اور روایات غزوات و سرایا کے مجمل ذکر سے امام بخاری کا کیا مقصد ہے۔ان کی تفصیل مد نظر نہیں بلکہ فتح مکہ سے قبل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جد و جہد اور اس کی نوعیت بتانا اصل مدعا ہے۔عنوانِ باب میں قبیلہ جہینہ کی شاخ حرقہ کو صیغہ مفرد کی جگہ صیغہ جمع سے ذکر کیا گیا ہے۔کیونکہ اس کی کئی گوتیں (بطون) علاقہ غسان میں تھیں جو بحیرہ مردار کے جنوب مشرقی علاقہ سے لے کر شامی حدود مشارف تک ممتد تھا۔بلقاء، بصری، از رعات اسی علاقے کے پر گنے تھے۔ان میں جو قبیلے بود و باش رکھتے تھے۔اُن میں سے ہنوزرعہ، بنو ربعہ ، بنو جر مز بن ربیعہ اور قبیلہ عمرو بن معبد جہنی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔قبیلہ جہینہ کی یہ شاخیں خاندانی طور پر جہینہ کی ان شاخوں سے مرتبط تھیں جو مدینہ کے شمال مغرب میں بحیرہ قلزم کے آس پاس آباد تھیں اور جن کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے ابتداء میں تعلقات موالاۃ قائم کئے تھے۔امام بخاری نے فتح مکہ سے ماقبل باب میں متعدد مہمات کا مجمل ذکر کر کے ان مہمات کے اسی مقصد کی طرف توجہ دلائی اور بتایا ہے کہ مہموں کی روانگی اور معاہدات طے کرنے میں ان قبائل کے باہمی تعلقات مد نظر رکھے گئے تھے ، جس سے وحدت ملی کی سر زمین ہموار کی گئی۔حرقات جہینہ سے متعدد قبائل مراد ہیں جو بنو حرقہ سے منسوب اور علاقہ غنسان میں آباد تھے۔ان قبائل میں سے جس نے برضاء و رغبت اسلام قبول کیا، ان پر اسلامی احکام عائد کئے گئے اور جو معاہدہ امن و صلح پر راضی ہوا اسی پر اکتفا کیا گیا۔چنانچہ قبائل بنو ضمرہ وغیرہ کے ساتھ معاہدات کی یہی دوسری صورت و شکل تھی۔مذکورہ بالا معاہدات میں قبائل کے سربراہوں کی طرف سے ظاہری اقرار کو کافی سمجھا گیا۔اس باب کی پہلی روایت (نمبر ۴۲۶۹) سے یہی ذہن نشین کرانا مقصود ہے کہ حضرت اسامہ بن زید نے زبانی اقرار کافی نہیں سمجھا اور دشمن قبیلہ کے ایک شخص کو قتل کر دیا اور یہ بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کا باعث ہوئی۔روایات نمبر ۴۲۷۰ تا ۴۲۷۳ میں حضرت سلمہ بن اکوغ کا بیان نقل کیا گیا ہے کہ وہ سولہ غزوات و مہمات میں شریک ہوئے۔یہ غزوات و سرایا پانچویں و چھٹی ہجری سے مخصوص ہیں۔صرف غزوہ اُبٹی کا تعلق آٹھویں ہجری سے ہے جس میں حضرت اسامہ بطور سپہ سالار مقرر کئے گئے۔ان کی مہم کا تعلق قبائل حرقات جہنی سے تھا۔باقی مہمات کا تعلق قبائل حرقات سے نہیں بلکہ ان کے ماسواد دیگر قبائل سے تھا۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۶۴۹)