صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 109
صحیح البخاری جلد ۹ ہر سیہ b+l ۶۴ - کتاب المغازی سالار کو ہدایت ہوتی کہ سلامت روی کا طریق اختیار کیا جائے۔صلح و امن کی دعوت دی جائے اور اسلام کے مدعا و منشاء سے قبیلہ کو آگاہ کیا جائے۔فقره أَدْعُوكَ بِدِعَايَةِ الإِسلام (کتاب بدء الوحی روایت نمبر۷) سے یہی مراد ہے۔بزور شمشیر کسی کو اسلام میں داخل کرنا اس سے ہر گز مراد نہیں۔نہ یہ جبر واکراہ دین میں داخل ہونے سے وحدت ملی کا مقصد پورا ہو سکتا تھا اور یہ جبر و اکراہ کا طریق قرآنِ مجید کے صریح حکم لا إكراه في الدين (البقرۃ: ۲۵۷) کے خلاف تھا۔جزیہ کی شرط عائد کرنے سے صرف یہی مقصود تھا کہ اگر کوئی اپنے مذہب پر رہے تو وہ اس میں آزاد ہے۔لیکن مملکت کی بہبود اور اس کے مشترکہ مفاد میں شریک ہونے کے لئے کم از کم بدل نقدی ادا کرے جو آج کل کی حکومتیں بھی کسی نہ کسی رنگ میں رعایا سے وصول کرتی ہیں جن کی حفاظت کی وہ ذمہ دار ہیں اور جن قبائل نے اسلام میں داخل ہونا قبول نہیں کیا، وہ یہ جزیہ دینے پر راضی ہو گئے اور اس طرح وحدت ملی کی غرض و غایت ان مہمات سے پوری ہوئی جو مختلف قبائل کی طرف روانہ کی گئیں۔بہت تھوڑے قبائل تھے جنہوں نے دعایۃ الاسلام کی مذکورہ غرض سے سرتابی کی اور برسر پیکار ہوئے اور شکست کھائی۔اکثر قبائل مشرکین، یہود و نصاریٰ نے یہ دعوت قبول کی اور وحدت ملی کی اہمیت سمجھی اور مملکت اسلامی کا حصہ بنے۔غرض اس باب کی روایات میں جن سات غزوات اور نو مہمات کا ذکر ہے، اُن سب کی غرض وغایت ایک ہی تھی۔ان سب میں طریق عمل بھی وہی اختیار کیا گیا تھا جو اختصار سے ابھی بیان کیا گیا ہے۔یعنی وحدت ملی و اصلاح حال اور امن عامہ کو بر قرار رکھنا۔کتب مغازی کی روایات میں ان مہمات کا مفصل ذکر موجود ہے اور ان وفود کا بھی جو صلح حدیبیہ کے بعد فتح مکہ تک مدینہ میں آتے رہے۔ان کی تعداد کم و بیش ستر ہے۔اور اس مختصر مدت میں آنحضرت صلی علیم کی طرف سے جو خطوط لکھے گئے اور معاہدات امن قرار پائے اُن کی تعداد دو سو دس کے قریب ہے۔تفصیل کے لئے دیکھئے الوثائق السياسية مصنفہ ڈاکٹر محمد حمید اللہ حیدرآبادی۔غزوہ خیبرے ھ میں ہوا جس سے یہود کی طاقت ختم ہوئی اور فتح مکہ رمضان ۸ھ میں۔اس سے قبل اور صلح حدیبیہ کے بعد مشار الیہا خطوط و وفود اور مہمات و معاہدات کا سلسلہ کثرت سے نظر آتا ہے جس نے فتح مکہ کے لئے موافق حالات پیدا کر دئے۔مکہ مکرمہ کے قرب وجوار میں اکثر قبائل نے اسلام قبول کر لیا یا اُن کی ہمدردی مسلمانوں کے حق میں ہو گئی اور قریش مکہ سے اُن کے تعلقات منقطع ہو گئے اور آخر اسلام کی حیرت انگیز ترقی دیکھ کر مبہوت و مرعوب ہو گئے اور سوائے اسلام قبول کرنے کے اُن کے لئے کوئی چارہ نہ رہا۔غزوہ فتح مکہ کے موقع پر دس ہزار اسلامی لشکر جرار کا مقابلہ کرنے میں قریش اور اُن کے حلیف و ہمد رد قبائل بالکل شل تھے۔جیسا کہ اگلے باب کے مطالعہ سے یہ امر ظاہر و باہر نظر آئے گا۔1 (الطبقات الكبرى لابن سعد ذكر وفادات الْعَرَبِ عَلَى رَسُولِ الله ، جزء اول صفحہ ۲۲۲ تا ۲۶۹)