صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 108 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 108

صحیح البخاری جلد ۹ ۱۰۸ ۶۴ - کتاب المغازی طریق مصالحت پر آپ کے ساتھ معاہدات گانٹھ لئے اور اگر اُن میں سے کسی قبیلہ نے تمر دو شرارت کی راہ اختیار کی تو اس نے منہ کی کھائی۔از روئے معاہدہ صلح حدیبیہ قریش کے ہاتھ بندھ گئے تھے۔وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قبائلی لڑائیوں میں دخل نہیں دے سکتے تھے۔اُن کی اپنی کمزوری بھی ان کے لئے اس مداخلت کی راہ میں بڑی روک تھی۔خیبر میں شکست کھا کر یہودی بھی ٹھنڈے پڑ چکے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یہی دو بڑے دشمن تھے جن سے متمرد قبیلہ کسی مدد کی امید رکھ سکتا تھا۔لیکن یہ دونوں دشمن پس چکے تھے اور اُن کی ہزیمت و شکست سے متعلق مہتم بالشان پیشگوئی سَيُهزِّمُ الْجَمْعُ وَ يُولُونَ الدبر (القمر: ۴۶) حیرت انگیز طریق پر پورا ہوتے دیکھ کر قبائل عرب بالعموم آپ کی صداقت کے قائل اور آپ کی غیر معمولی فتوحات سے مرعوب تھے۔معاہدہ صلح حدیبیہ کی وجہ سے قبائل عرب کے افراد کو ایک دوسرے سے ملنے جلنے اور تبادلہ خیال کرنے کی مکمل اجازت ہو گئی تھی۔ہر فرد بے روک ٹوک مدینہ ومکہ میں آجا سکتا تھا۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم و صحابہ کرائم سے ملاقات کرنے اور آپ کے اخلاق حمیدہ اور اسلامی تعلیم سے متعلق براہِ راست علم حاصل کرنے کے مواقع میسر ہو گئے تھے۔قلب و ذہن اسلام قبول کرنے کے لئے مستعد تھے۔چنانچہ دو تین سال ہی میں مسلمانوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا اور وہ سینکڑوں سے ہزاروں ہو گئے۔صلح حدیبیہ (1ھ) اور غزوہ فتح مکہ (۸ھ) کے درمیان کے قلیل عرصہ میں اسلام کی ترقی کا یہ حال تھا کہ فتح مکہ کے موقع پر بارہ ہزار قد دسیوں کا لشکر تھا جو اپنے جوش و فداکاری میں بحر مواج تھا۔ایک نہایت قلیل مدت میں اس غیر معمولی ترقی کا سبب الہی خارق عادت قدرت نمائی، انفرادی ملاقات و تبادلہ خیالات میں آزادی اور قبا کلی تعلقات کی استواری ہی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قبائل کے باہمی تعلقات کی خوشگواری کے پس منظر سے واقف تھے اور حضرت ابو بکر تو علم انساب میں بہت بڑے ماہر مانے گئے تھے۔وہ جانتے تھے کہ قبائل عرب میں سے کونسا قبیلہ کس قبیلہ کا حریف یا دوست ہے۔ان کے نسلی اور معاشرتی تعلقات کس نوعیت کے ہیں۔اُن کی دیرینہ دوستیوں یا دشمنیوں کی تاریخ کیا ہے اور قریش مکہ کے ساتھ کو نسا قبیلہ ساز گار یا ناموافق ہے۔اس تاریخی پس منظر کی واقفیت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبائل کو راس کرنے میں پورا پورا فائدہ اُٹھایا۔آپ نے جس طرح خیبر کے یہودیوں کو مصالحت پر آمادہ کرنے کے لئے حضرت عبد اللہ بن رواحہ کو منتخب فرمایا کہ اس خدمت کو وہی عمدگی سے ادا کر سکتے تھے۔آپ نے اسی علم و بصیرت کی بناء پر حضرت ابو بکر وغیرہ کی قیادت میں قبائل کی طرف متعدد ہمیں روانہ فرمائیں اور ان مہموں کے لئے آپ کا انتخاب علی وجہ البصیرت تھا۔ان مہموں کو روانہ کرتے وقت آپ کو علم ہو تا کہ صحابہ کرام میں سے کون اپنی مہم کی غرض و غایت بہترین صورت میں ادا کرنے کے قابل ہے اور کس کے کس قبیلہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور اس پر نیک اثرات ڈال سکتا ہے۔