صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 107
صحیح البخاری جلد ۹ 1+2 ۶۴ - کتاب المغازی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مذکورہ بالا خط سے ظاہر ہے۔یہ تبلیغی خط دعوتِ اسلام کی غرض سے لکھا گیا تھا اور اسی مفہوم کے خطوط باقی رؤساء قبائل کو بھی لکھے گئے تھے۔ان دو سالوں میں متعدد دستے جو مختلف اطراف میں بھیجے گئے تھے وہ تبلیغ کی غرض سے تھے یا تادیب کی غرض سے۔تا علاقہ جات میں امن بر قرار ہو۔چنانچہ راستہ پر امن پاکر قبائل عرب کی طرف سے وفود پے در پے مدینہ میں آنے لگے۔صلح حدیبیہ کی شرطوں میں سے ایک اہم شرط یہ تھی: وَأَنَّهُ مَنْ أَحَبَّ أَن يَدْخُلَ فِي عَقْدِ مُحَمَّدٍ وَعَهْدِهِ دَخَلَ فِيهِ۔وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَدْخُلَ فِي عَقْدِ قُرَيْشٍ وَعَهْدِهِمْ دَخَلَ فِيهِ - یعنی جو محمد (سال ) کے ساتھ معاہدہ حلف میں داخل ہونا پسند کرے وہ آپ کے حلف میں داخل ہو جائے اور جو قریش کے ساتھ معاہدہ حلف میں داخل ہونا پسند کرے وہ اُن کے حلف میں داخل ہو جائے۔حلف کے معنی ہیں عہد و پیماں۔آج کل بھی حکومتیں ایسے معاہدات ایک دوسرے کے ساتھ کرتی ہیں اور انگریزی لفظ Ally وغیرہ حلیف کے مترادف ہیں۔شروط صلح کا علم ہونے پر قبیلہ خزاعہ نے اعلان کیا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیف ہیں اور بنو بکر نے اعلان کیا کہ وہ قریش کے حلیف ہیں۔دونوں قبیلوں میں قدیم سے کشیدگی اور عداوت تھی اور وہ ایک دوسرے کے حریف تھے۔بلکہ خزاعہ قبیلہ کے تعلقات قریش سے بھی کشیدہ تھے۔سیلاب عرم کے بعد جب عدنانی قبائل حجاز کے شمالی علاقوں میں آباد ہوئے تو قبیلہ خزاعہ مکہ مکرمہ پر قابض اور بیت اللہ کا متولی ہوا اور اُن کی یہ تولیت تین صدیوں تک رہی اور اس کے بعد قصی کی کوشش سے قبیلہ قریش بیت اللہ کا متولی ہوا اور خزاعہ کو مکہ مکرمہ سے جلاوطن کر دیا اور وہ وادی بنی فاطمہ اور تہامہ وغیرہ کے علاقے میں آباد ہو گئے جو ساحل قلزم کے محاذ پر ہے۔اس علاقے کے در میان سے تجارتی قافلوں کا راستہ شام، یمن و مصر کے لیے گزرتا تھا۔جس کی وجہ سے حجاز کو اہمیت حاصل تھی کہ وہ مشرق و مغرب کے درمیان واسطه نقل و حرکت تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت پر سب سے پہلے قبیلہ خزاعہ ، بنی ضمرہ، غفار اور جہینہ کے ساتھ معاہدات غیر جانبداری گلے کئے۔کتاب المغازی کے ابتدائی ابواب کی تشریح میں ان معاہدات کا ذکر گزر چکا ہے اور قبائل بنی اوس و خزرج سے ان کے تعلقات ہمیشہ خوش گوار رہے، جس کی وجہ سے اُن کے ساتھ بھی معاہدہ موالات قائم کرنے میں دقت نہیں ہوئی۔چنانچہ صلح حدیبیہ کے بعد خزاعہ اور ان کے حلیف قبائل کا تعلق مخالفت و موالات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ علی الاعلان ہو گیا۔صلح حدیبیہ کی مذکورہ بالا شرط سے آپ نے دعوتِ اسلام اور استوار کی تعلقات کی توسیع میں پورے طور پر فائدہ اُٹھایا۔نتیجہ یہ ہوا کہ صلح حدیبیہ پر تین سال کا عرصہ نہیں گزرا تھا کہ قبائل جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئے یا انہوں نے (السيرة النبوية لابن هشام، أمر الحديبية ، على يَكْتُبُ شُروط الصلح، جزء ۲ صفحه ۳۱۸)