صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 106
صحیح البخاری جلد ۹ b ۱۰۶ ۶۴ - كتاب المغازي ان سات مہموں میں حضرت سلمہ بن اکوئ بھی شامل ہوئے تھے اور ان کا ذکر ، اور ان کا ذکر کتب مغازی میں وارد ہوا ہے۔ باقی دو مہموں میں سے ایک مہم وہ ہے جو بقیادت حضرت ابو بکر بنو فزارہ اور ے د شعبان میں بنو کلاب کی طرف بھیجی گئی تھی۔ اس کا ذکر صحیح مسلم میں ہے اور دوسری کا طبقات ابن سعد میں ہے۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۶۴۹) سات غزوات جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ہوئے، ان میں سے چار کا ذکر تو روایت نمبر ۴۲۷۳ میں ہے۔ یعنی خیبر ، حدیبیہ ، حسین اور قرد۔ اور جو یزید بن ابی عبید بھول گئے وہ یہ ہیں: غزوہ فتح مکہ و طائف اور غزوہ تبوک۔ حضرت اُسامہ جس پہلی مہم میں بطور سپہ سالار تھے اس کا ذکر اس باب کے عنوان میں کیا گیا ہے۔ جیسا کہ امام ابن حجر نے اس بارے میں تصریح کی ہے۔ یعنی اس مہم میں جو قبائل خرقات کی طرف بھیجی گئی تھی، یہ مہم حرقہ کی طرف منسوب ہے جس کا اصل نام و نسب جهیش بن عامر بن ثعلبہ بن مودعه بن جہینہ ہے۔ ابن کلبی مورخ نے بتایا ہے کہ جہیش حرقہ کے نام سے مشہور ہو گیا تھا کہ اس نے لوگوں کو قتل کر کے جلا دیا تھا۔ حضرت اسامہ کی قیادت میں محرقات کی مہم کے بعد ایک مہم اپنی مقام کی طرف صفر ۸ھ میں بھیجی گئی تھی۔ یہ مقام پر گنہ بلقاء میں تھا۔ حرقات قبیلہ جہینہ کی شاخیں تھیں۔ روایت نمبر ۴۲۷۰، ۴۲۷۱ میں فقرہ مَرَّةً عَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ وَمَرَّةً عَلَيْنَا أَسَامُةُ کا مفہوم امام ابن حجر کے نزدیک یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کسی مہم میں حضرت ابو بکر امیر تھے اور کسی میں حضرت اسامہ اور کسی میں ان کے سوا اور کوئی صحابی - فقره وَمَرَّةً عَلَيْنَا غَيْرُهُمَا مقدر ہے۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۶۴۹) وَقَالَ عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ: یہ قول ابو نعیم نے مستخرج میں بسند ابی بشر اسماعیل بن عبد اللہ موصولاً نقل کیا ہے۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۶۴۹) ساتویں اور آٹھویں ہجری اس امر میں ممتاز ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دو بڑے دشمنوں قریش اور یہود کو مغلوب کر کے معاہدات صلح کے ذریعہ اُن کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کر لئے تو اس کے بعد جزیرہ عرب میں داخلی امن کا سوال تھا۔ جس کے لئے ضروری تھا کہ باقی قبائل سے بھی تعلقات ہموار ہوں تا وحدت قومی سے آپ کی بعثت کا مقصد پایہ تکمیل کو پہنچے اور اس کے لئے دو ہی طریق تھے۔ (اول) دعوتِ اسلام کے ذریعہ مشرکین کو ہم عقیدہ بنانا۔ (دوم) یا اُن کے ساتھ مصالحت کے طریق سے مشترکہ اغراض کے لئے رابطہ اتحاد اور تعاون علی البر کی صورت قائم کرنا۔ یہ دونوں طریق صلح حدیبیہ اور غزوہ خیبر کے بعد اختیار کئے گئے۔ غزوہ موتہ ایک ضمنی تادیبی کارروائی تھی۔ جن مہمات کا ذکر اس باب کا کا ذکر اس باب کی روایات میں ہے وہ اسی اہم غرض سے تھیں۔ جیسا کہ (مسلم، كتاب الجهاد والسير ، بَاب التَّنْفِيلِ وَفِدَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِالْأَسَارَى) الطبقات الكبرى لابن سعد، سَرِيَّةُ أَبِي بَكْرِ الصَّدِيقِ إِلَى بَنِي كلاب بنجد، جزء ۲ صفحہ ۹۰)