صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 105
صحيح البخاری جلد ۹ ۱۰۵ ۶۴ - کتاب المغازی ريح : بَعْثُ اللَّيْنِ أُسَامَةَ بْن زَيْدِ إِلَى الخرقاتِ مِن جُهَيْنَة: ترتیب ابواب سے ظاہر ہے کہ حضرت اسامہ بن زید حرقات کی مہم میں سپہ سالار تھے اور مجاہدین ان کی قیادت میں اس جنگ میں بھیجے گئے تھے۔حضرت اسامہ اپنے باپ حضرت زید بن حارثہ کی شہادت کے بعد ہی امیر جیش مقرر کئے گئے تھے۔غزوہ موتہ جمادی الاولی ۸ھ میں ہوا تھا، جیسا کہ سابقہ باب کی تشریح میں گزر چکا ہے۔کتب مغازی میں غالب بن عبد اللہ لیثی کی مہمات کا بھی ذکر ہے، جو میفعہ کی طرف رمضان کے ھ میں یہ مقام وادی نخل کے ورے ہے۔یا بعض روایات کے مطابق بنی مرہ کی طرف صفر ۸ھ میں روانہ کی گئی تھی۔مؤلفین مغازی نے ان مہمات کے تعلق میں بیان کیا ہے کہ حضرت اسامہ نے ایک شخص کو کلمہ شہادت کا اقرار کرنے کے باوجود قتل کر دیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر ناراضگی کا اظہار فرمایا تھا۔امام بخاری نے ابواب کی جو ترتیب قائم کی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ واقعہ مذکورہ کا تعلق غزوۂ حرقات سے ہے نہ میفعہ کی مہم سے اور یہ مہم کے ھ میں نہیں بلکہ غزوہ موتہ کے بعد روانہ کی گئی تھی جو جمادی الاولی ۸ ھ میں ہوا۔باب کی پہلی روایت نمبر ۲۲۶۹) سے ظاہر نہیں ہوتا کہ حرقات کی مہم میں حضرت اسامہ امیر جیش تھے، صرف ان کی روانگی کا ذکر ہے۔یہ ابہام مؤلفین مغازی کے اختلاف کی وجہ سے ہے۔اگر کتب مغازی کی روایت درست ہو تو عنوانِ باب کے لحاظ سے تسلیم کرنا پڑے گا کہ حضرت اسامہ میفعہ کی مہم میں قائد حرب تھے۔چونکہ ان کی قیادت ان کے باپ حضرت زید کی شہادت کے بعد کا واقعہ ہے جو اھ میں ہوئی تھی۔اس لئے امام بخاری کی ترتیب غزوات درست معلوم ہوتی ہے اور مذکورہ بالا مہم کا تعلق ۸ھ سے ہے نہ کہ ےھ سے۔اگلی دو روایتیں بھی حضرت اسامہ کی قیادت ہی کے تعلق میں ہیں جو مختلف سندوں سے مروی ہیں۔اس تعلق میں روایت نمبر ۴۲۵۰ زیر باب ۴۲ کی بھی دیکھئے جس میں بروایت حضرت عبد اللہ بن عمر حضرت اسامہ کی امارت کا ذکر ہے۔روایات نمبر ۴۲۷۰، ۴۲۷۱ میں جن نو مہمات کا ذکر ہے ان میں سے سات یہ ہیں: پہلی مہم مجد کی طرف ایک سو مجاہدین کے ساتھ جمادی الآخرہ ۵ھ میں۔دوسری مہم قبیلہ بنو سلیم کی طرف ربیع الثانی ۶ھ میں۔تیسری مہم قافلہ قریش کی مزاحمت کے لئے اسی سال جمادی الاولیٰ میں۔اس مہم میں مجاہدین ابو العاص بن ربیع کو قید کر کے مع قافلہ مدینہ میں لے آئے تھے۔چوتھی مہم بھی اسی سال بنو ثعلبہ کی طرف۔پانچویں مہم کا ذکر گزر چکا ہے۔شاہ ہر قل سے واپسی پر قبیلہ بنو جزام نے حضرت دحیہ کلبی کو لوٹ لیا تھا، ان کی سرکوبی کے لئے پانچ سو مجاہد حسمیٰ مقام کی طرف بھیجے گئے تھے۔چھٹی مہم ۷ ھ وادی القریٰ کی طرف تجارتی قافلہ کی حفاظت کے لئے اور ساتویں مہم بنو فزارہ کی سرکوبی کے لئے جنہوں نے صحابہ کا تجارتی قافلہ لوٹ لیا تھا۔(فتح الباری شرح کتاب المغازی باب ۴۲، جزء صفحہ ۶۲۴) 1 ( فتح الباری جزءے صفحہ ۶۴۸) (إمتاع الاسماع، سرية غالب ابن عبد الله إلى بنى مرة، جزء اول صفحه ۳۲۹)