صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 103
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۰۳ ۶۴ - کتاب المغازی وَلَحِقْتُ أَنَا وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ رَجُلًا اس قوم پر حملہ کیا اور انہیں شکست دے کر بھگا مِّنْهُمْ فَلَمَّا غَشِيْنَاهُ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا الله دیا اور میں نے اور ایک انصاری مرد نے اُن میں فَكَفَّ الْأَنْصَارِيُّ فَطَعَنْتُهُ بِرُمْحِي سے ایک شخص کا پیچھا کیا۔جب ہم نے اس کو گھیر حَتَّى قَتَلْتُهُ فَلَمَّا قَدِمْنَا بَلَغَ النَّبِيَّ ليا تو وہ لَا إِلَهَ إِلَّا الله کہنے لگا۔یہ سن کر انصاری تو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أُسَامَةٌ رُک گیا اور میں نے اپنے نیزہ سے اُس کو زخمی کیا أَقَتَلْتَهُ بَعْدَ مَا قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ اور مار ڈالا۔جب ہم آئے تو نبی کریم علی ایام کو یہ خبر پہنچی تو آپ نے فرمایا: اسامہ ! کیا تم نے اُسے مار ڈالا بعد اس کے کہ اس نے لا إِلهَ إِلَّا اللهُ کا اقرار کیا۔میں نے کہا: وہ اپنا بچاؤ کر رہا تھا۔مگر آپ وہی بات دہراتے رہے۔یہاں تک کہ میں نے آرزو کی کہ کاش میں اس دن سے پہلے قُلْتُ كَانَ مُتَعَوّذَا فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي لَمْ أَكُنْ أَسْلَمْتُ قَبْلَ ذَلِكَ الْيَوْمِ۔طرفه: ۶۸۷۲ مسلمان نہ ہوا ہوتا۔٤٢٧٠: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۴۲۷۰ قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ حاتم بن اسماعیل) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَكْوَع يزيد بن الى عبید سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: يَقُوْلُ غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ میں نے حضرت سلمہ بن اکوع سے سنا۔وہ کہتے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ وَخَرَجْتُ تھے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سات فِيمَا يَبْعَثُ مِنَ الْبُعُوْثِ تِسْعَ مہموں میں نکلا اور جو دستے آپ روانہ فرماتے تھے غَزَوَاتٍ مَرَّةً عَلَيْنَا أَبُو بَكْرٍ وَمَرَّةً ایسے دستوں کے ساتھ میں نو مہموں میں نکلا۔ایک بار حضرت ابو بکر ہم پر سر دار تھے اور ایک عَلَيْنَا أُسَامَةً۔أطرافة: ۴۲۷۱، ۴۲۷۲، ۴۲۷۳۔بار اسامہ بن زید ٤٢٧١: وَقَالَ عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ ۴۲۷۱: عمر بن حفص بن غیاث (شیخ بخاری) نے غِيَاتٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدِ کہا کہ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے یزید