صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 101 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 101

(+1 صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی اپنے تین ساتھی سپہ سالاروں سے کم جواں مردی نہیں دکھائی۔دشمن کی بڑھتی تعداد دیکھ کر خط رجعت اختیار کیا جو اُن کا ایک بہت بڑا کارنامہ ہے اور جن نوجوانوں نے ان کو بھگوڑے پن کا طعنہ دیا ہے وہ صورت حال کی نزاکت اور تدبیر جنگی سے قطعا نابلد تھے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان نوجوانوں کی اس طعنہ زنی کا جواب دیتے ہوئے فرمایا: لَيْسُوا بِالْفُرَّارِ، وَلَكِنَّهُمُ الْكُزَارُ۔وہ بھگوڑے نہیں ہیں بلکہ پلٹ کر دوبارہ حملہ کرنے والے ہیں۔لے باب کی روایت نمبر ۴۲۶۲ سے واضح ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جہاں مکاشفہ سے تین سپہ سالاروں کی شہادت کا علم ہوا اور اس سے لوگوں کو اطلاع دی وہاں آپ نے ان کو یہ بھی بتایا کہ اللہ کی تلوار نے علم لیا اور اسے فتح ہوئی۔اس مکاشفہ سے بھی ظاہر ہے کہ حضرت خالد اللہ کی تلوار قرار دیے گئے ہیں اور ان کا دشمن کو نڈھال اور پسپا کر کے لوٹنا درحقیقت فتح تھی۔کیونکہ یہ ملک گیری کی جنگ نہ تھی۔بلکہ ایک مظلوم کا انتقام اور سفاک قوم کی سرزنش اور تقدیر الہی کا نفاذ تھا۔نوجوانوں کی طعنہ زنی اور آنحضرت صلی علیم کے حوصلہ افزا الفاظ کا ذکر ابن ہشام نے کیا ہے۔اسی سیرت میں ابن اسحاق سے مروی ہیں: ثُمَّ الحَازَ وَالْحِيزَ عَنْهُ - حضرت خالد لوگوں کو لے کر ایک طرف ہو گئے پھر مقابلہ کیا اور ہے اور دشمن بھی ان سے ہٹ گیا۔پھر اس کے بعد وہ لوگوں کو لے کر لوٹے۔دشمن کا مقابلہ کے لئے آگے نہ بڑھنا اور واپسی کو غنیمت سمجھنا یہ دلیل ہے اُس کی شکست کی۔چنانچہ مغازی موسیٰ بن عقبہ میں دشمنوں کی شکست کا ذکر صراحت سے ان الفاظ میں ہے : ثُمَّ اصْطَلَّحَ الْمُسْلِمُونَ عَلَى خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ فَهَزَمَ اللهُ الْعَدُو وَأَظْهَرَ الْمُسْلِمِينَ یعنی حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی شہادت کے بعد مسلم مجاہدین نے بالا تفاق حضرت خالد کو امیر بنایا اور اللہ نے دشمن کو شکست دی اور مسلمانوں کو غالب کیا۔( فتح الباری جزءے صفحہ ۶۴۳) اگر چه چه مغازی موسیٰ بن عقبہ اب نایاب ہے لیکن امام ابن حجر کے زمانہ میں موجود تھی اور انہوں نے ہی اس کے مذکورہ بالا الفاظ نقل کئے ہیں۔خط رجعت کے ذریعہ فوج کو نرغہ سے نکالنا اور اسے نئے سرے سے ترتیب دینا فن سپہ گری شمار کیا جاتا ہے۔بعض روایتوں میں صراحت ہے کہ حضرت خالد بن ولید نے اپنی فوج کو محفوظ کر کے اس کی ترتیب بدلی۔مقدمہ الجیش کو مؤخر اور مؤخر کو مقدم، میمنہ (راست) کو میسرہ (چپ) اور میسرہ کو میمنہ کر دیا۔اس تبدیلی سے دشمن کو خیال پیدا ہوا کہ انہیں کمک پہنچ گئی ہے جس کی وجہ سے تازہ دم فوج کے مقابلہ کی اسے ہمت نہ ہوئی اور وہ میدان سے ہٹ گیا۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۶۴۳) یہ بتایا جا چکا ہے کہ کتب مغازی میں سے موسیٰ بن عقبہ کی مغازی ہی زیادہ صحیح ہے۔خلاصہ یہ کہ مغازی کے بیانات سے امام بخاری کی روایات کی تصدیق ہوتی ہے، جن کا ملخص یہ ہے کہ غزوہ موتہ میں مجاہدین نے بے جگری سے مقابلہ کیا اور وہ اس جنگ میں اس لحاظ سے ظفر مند تھے کہ انہوں نے اپنے ایک مظلوم ساتھی کا انتقام لیا اور رومیوں کے حوصلوں کو پست کر دیا اور ان کے منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔1 (السيرة النبوية لابن هشام، ذكر غزوة مؤتة، رُجُوعُ الْجَيْشِ وَتَلْقَى الرَّسُولِ لَهُ، جزء ۲ صفحه ۳۸۲)