صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 100
صحیح البخاری جلد ۹ ۱۰۰ ۶۴ - کتاب المغازی أَقْسَمْتُ يَا نَفْسُ لَتَنْزِلِنَّهُ لَتَنْزِلِنَّ أَوْ لَتُكْرَهِنَّهُ اے میری جان! میں نے قسم کھائی ہے کہ تو نے ضرور میدان میں اُترنا ہے۔ تجھے ضرور میدان میں اُترنا ہے۔ ورنہ تیری مرضی کے خلاف تجھے اُترنے پر مجبور کروں گا۔ تو چاہے یا نہ چاہے۔ يَا نَفْسُ إِلَّا تُقْتَنِي تَمُونِي هَذَا حِمَامُ الْمَوْتِ قَدْ صُلِيتِ وَمَا تَمَنَّيْتِ فَقَدْ أُعْطِيتِ إن تَفْعَلِي فِعْلَهُمَا هُدِيْتِ اے میری جان! اگر تو قتل نہ ہوئی تو آخر تجھے ایک دن مرنا ہے۔ یہ دیکھو موت کے تنور میں تم پڑچکی ہو اور جس شے کی تو نے آرزو کی تھی وہ تجھے مل گئی ہے۔ اگر تو نے اپنے دونوں ساتھیوں کا سا کارنامہ دکھایا تو تو راہ راست پر ہو گی۔ کے لکھا ہے کہ مدینہ طیبہ سے روانہ ہوتے وقت جب صحابہ کرام نے مجاہدین کو سلامت روی و ظفر مندی و کامیاب واپسی کی دعا دی تو حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے انہیں اس رجزیہ شعر سے جواب دیا: لَكِنَّنِي أَسْأَلُ الرَّحْمَنَ مَغْفِرَةٌ وَضَرْبَةً ذَاتَ فَرُعْ تَقْذِفُ الزَّبَدًا لیکن میں تو رحمن کی مغفرت کا طالب ہوں اور تلوار کے ایسے کاری وار کا جو جھاگ نکال دے۔ غرض ہر عملدار امیر جیش نے حملہ آوروں کا اس شدت سے مقابلہ کیا کہ مجاہدین میں ایک جنون کی سی کیفیت پیدا ہو گئی اور غسانی اور رومی مقتولین کے پشتوں سے میدان کارزار بھر گیا۔ مسلمان مجاہدین کی تیغ زنی اور تیر اندازی سے ان کے دل دہل گئے اور قدم اکھڑتے چلے گئے۔ اس کا پتہ ان کے مورچوں کی بار بار تبدیلی سے چلتا ہے اور اس امر سے بھی کہ رومی عسائیوں کی مدد کے لئے از روئے معاہدہ چالیس ہزار فوج میدان میں لانے کے ذمہ دار تھے۔ مگر یہ مدد ا نہیں بڑھانی پڑی۔ بلقاء کا علاقہ پہلے قبیلہ حجم کے کے زیر زیر : تسلط تھا۔ ان کی عسائیو سے ! لڑائی ہوئی اور شکست کھائی تو انہوں نے رومیوں کی باجگزاری سے انکار کر دیا۔ رومیوں کو خوف ہوا کہ کہیں یہ طاقتور قبیلہ ایرانیوں کا حلیف نہ بن جائے۔ اسے باجگزاری کی ادائیگی سے آزاد کر دیا اور یہ معاہدہ قرار پایا کہ وہ قبیلہ رومیوں کی جنگ میں ہیں ہزار نفری سے مدد دیا کرے گا اور غسانیوں پر حملہ ہونے کی صورت میں رومی ان کو چالیس ہزار سپاہ سے مدد دیں گے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر قل کو اپنی موعودہ مدد میں اضافہ کرنا پڑا۔ اس اضافہ کمک اور مورچہ بندی کی تبدیلی سے ظاہر ہے کہ مجاہدین کا مقابلہ ان کے لئے آسان امر نہ تھا۔ امام بخاری کی روایت ۴۲۶۵، ۴۲۶۶ سے ظاہر ہے کہ حضرت خالد کے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹیں۔ انہوں نے ! (السيرة النبوية لابن هشام ، ذكر غزوة مؤتة ، إمَارَةُ ابْنِ رَوَاحَةً وَمَقْتَلُهُ، جزء ۲ صفحه ۳۷۹) (تاريخ الرسل والملوك للطبرى، سنة ثمان من الهجرة، ذكر الخبر عن غزوة مؤتة، جزء ۳ صفحه ۴۰) (السيرة النبوية لابن هشام، ذكر غزوة مؤتة، بُكَاءُ ابْنِ رَوَاحَةً مَخَافَةَ النَّارِ ، جزء ۲ صفحه ۳۷۴) المحبر لابی جعفر البغدادی، سبب ملك غسان، صفحه ۳۷۱)