صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 100 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 100

صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی أَقسَمْتُ يَا نَفْسُ نَتَنْزِلِنَّهُ لتَنْزِين أو لتُكْرَهنَّة اے میری جان ! میں نے قسم کھائی ہے کہ تو نے ضرور میدان میں اترنا ہے۔تجھے ضرور میدان میں اترنا ہے۔ورنہ تیری مرضی کے خلاف تجھے اُترنے پر مجبور کروں گا۔تو چاہے یا نہ چاہے۔يَا نَفْسُ إِلَّا تُقْتَنِي تَمُوتي هَذَا حِمَامُ الْمَوْتِ قَدْ صُلِيتِ وَمَا تَمَنَّيَّتِ فَقَدْ أُعْطِيتِ إن تَفْعَلِي فِعْلَهُمَا هُدِيَّتِ اے میری جان ! اگر تو قتل نہ ہوئی تو آخر تجھے ایک دن مرنا ہے۔یہ دیکھو موت کے تنور میں تم پڑ چکی ہو اور جس شے کی تو نے آرزو کی تھی وہ تجھے مل گئی ہے۔اگر تو نے اپنے دونوں ساتھیوں کاسا کارنامہ دکھایا تو تو راہ راست پر ہوگی۔کے لکھا ہے کہ مدینہ طیبہ سے روانہ ہوتے وقت جب صحابہ کرام نے مجاہدین کو سلامت روی و ظفر مندی و کامیاب واپسی کی دعا دی تو حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے انہیں اس رجزیہ شعر سے جواب دیا: لَكِنَّنِي أَسْأَلُ الرَّحْمَنَ مَغْفِرَةٌ وَضَرْبَةٌ ذَاتَ فَرْعٍ تَقْذِفُ الزَّبَدَا لیکن میں تو رحمن کی مغفرت کا طالب ہوں اور تلوار کے ایسے کاری وار کا جو جھاگ نکال دے۔۔غرض ہر عملدار امیر جیش نے حملہ آوروں کا اس شدت سے مقابلہ کیا کہ مجاہدین میں ایک جنون کی سی کیفیت پیدا ہو گئی اور عنسانی اور رومی مقتولین کے پشتوں سے میدان کارزار بھر گیا۔مسلمان مجاہدین کی تیغ زنی اور تیر اندازی سے ان کے دل دہل گئے اور قدم اکھڑتے چلے گئے۔اس کا پتہ ان کے مورچوں کی بار بار تبدیلی سے چلتا ہے اور اس امر سے بھی کہ رومی عسائیوں کی مدد کے لئے از روئے معاہدہ چالیس ہزار فوج میدان میں لانے کے ذمہ دار تھے۔مگر یہ مدد نہیں بڑھانی پڑی۔بلقاء کا علاقہ پہلے قبیلہ نجم کے زیر تسلط تھا۔ان کی عسائیوں سے لڑائی ہوئی اور شکست کھائی تو انہوں نے رومیوں کی باجگزاری سے انکار کر دیا۔رومیوں کو خوف ہوا کہ کہیں یہ طاقتور قبیلہ ایرانیوں کا حلیف نہ بن جائے۔اسے باجگزاری کی ادائیگی سے آزاد کر دیا اور یہ معاہدہ قرار پایا کہ وہ قبیلہ رومیوں کی کر جنگ میں میں ہزار نفری سے مدد دیا کرے گا اور عسائیوں پر حملہ ہونے کی صورت میں رومی ان کو چالیس ہزار سپاہ سے مدد دیں گے۔روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر قل کو اپنی موعودہ مدد میں اضافہ کرنا پڑا۔اس اضافہ کمک اور مورچہ بندی کی تبدیلی سے ظاہر ہے کہ مجاہدین کا مقابلہ ان کے لئے آسمان امر نہ تھا۔امام بخاری کی روایت ۲۲۶۵، ۴۲۶۶ سے ظاہر ہے کہ حضرت خالد کے ہاتھ میں نو تلواریں ٹوٹیں۔انہوں نے ل (السيرة النبوية لابن هشام، ذكر غزوة مؤتة ، إمَارَةُ ابْنِ رَوَاحَةً وَمَقْتَلُهُ، جزء ۲ صفحه ۳۷۹) تاريخ الرسل والملوك للطبرى سنة ثمان من الهجرة، ذكر الخبر عن غزوة مؤتة، جزء۳ صفحه ۴۰) (السيرة النبوية لابن هشام ، ذكر غزوة مؤتة، بُكَاءُ ابْنِ رَوَاحَةَ مَخَافَةَ النَّارِ ، جزء ۲ صفحه ۳۷۴) المحبر لا بي جعفر البغدادى، سبب ملك غسان، صفحه ۳۷۱)