صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 99
صحیح البخاری جلد ۹ ٩٩ ۶۴ - کتاب المغازی جائے اور اگر وہ ٹھکرائی جائے اور جنگ ناگزیر ہو تو اللہ پر توکل کرتے ہوئے دشمن کا مقابلہ کیا جائے۔ہر جنگ کے آغاز سے قبل آپ کی طرف سے یہی دعوت اسلام دی گئی۔صلح حدیبیہ کے موقع پر بھی یہی دعوت تھی جس کی بناء پر مشرکین مکہ کے ساتھ صلح ہوئی۔بحالیکہ وہ اپنے مشرکانہ عقائد پر قائم تھے۔یہودیان خیبر کو بھی یہی دعوت تھی اور وہ اپنے مذہب پر قائم رہے اور ان سے صلح ہوئی۔اسلام نے کسی مذہبی اختلاف کی وجہ سے قطعا کسی قوم کے خلاف جنگ کا اعلان نہیں کیا۔ابن ہشام نے اپنی سیرت میں حضرت عبد اللہ بن رواحہ کے جو الفاظ نقل کئے ہیں ان میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی اصولی ہدایت کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ الفاظ ہیں : يَا قَوْمِ وَاللَّهِ إِنَّ الَّتِي تَكْرَهُونَ۔للَّتِي خَرَجْتُمْ تَطْلُبُونَ الشَّهَادَةُ، وَمَا تُقَاتِلُ النَّاسَ بِعَدَدِ وَلَا قُوَّةٍ وَلَا كَفْرَةٍ، مَا نُقَاتِلُهُمْ إِلَّا بِهَذَا الذِيْنِ الَّذِي أَكْرَمَنَا اللَّهُ بِهِ، فَانْطَلِقُوا فَإِنَّمَا هِيَ إِحْدَى الْحُسْنَيَيْنِ إِمَّا ظُهُورٌ وَإِمَّا شَهَادَةٌ - اے قوم! کیا تمہیں اس وجہ سے جنگ کرنا نا پسند ہے کہ تمہارا مقصود (شہادت کا انعام ) مل رہا ہے۔بخدا ہم لوگوں سے کثرت تعداد اور طاقت کے بل بوتے پر نہیں لڑرہے۔بلکہ ہماری ان سے لڑائی اس دین کی وجہ سے ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عزت بخشی ہے۔(یعنی دین اسلام جو صلح اور امن کا دین ہے) سوچتے کیا ہو چلو آگے بڑھو۔کیونکہ دو اچھی باتوں میں سے ایک تو ضرور ملے گی، فتح یا جام شہادت۔چنانچہ یہ مشورہ جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے، سب نے بالا تفاق قبول کیا۔معان میں دو دن قیام ہوا اور اس اثنا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت پر عمل کیا گیا۔یعنی مقتول کی دیت کا مطالبہ ہوا اور مصالحانہ رویہ اختیار کرنے کی تحریک کی گئی۔لیکن جب دیکھا کہ دشمن مصالحت کی راہ اختیار نہیں کرتا اور اپنی کثرت سپاد کی بناء پر جنگ پر مصر ہے تو مجاہدین نتائج جنگ سے بے پرواہ ہو کر بلقاء کی طرف بڑھے اور مشارف کے میدان میں عسائیوں اور رومیوں کی سرحد پر اُن سے سامنا ہوا اور موتہ کے مقام پر ان کی مڈ بھیڑ ہوئی۔کتب مغازی میں بھی یہی ذکر ہے کہ امیر جیش بے جگری سے لڑا اور گھوڑے جب آگے بڑھنے سے رُکتے تو گھوڑوں سے اتر کر پا پیادہ لڑتے اور حضرت علی کے بھائی حضرت جعفر بن ابی طالب کے متعلق بھی یہی ذکر ہے کہ وہ فرطِ جوش جہاد میں گھوڑے سے کود پڑے اور اس کی کونچیں کاٹ کر اُسے بے کار کر دیا کہ اس میدان کار زار سے واپس جانے کی اب ضرورت نہیں۔گھوڑے کو اس طرح بے کار کر دینے کا یہ واقعہ اسلام میں پہلا ہے۔عربوں کے ہاں یہ رواج تھا جس کی ممانعت کی گئی اور مغازی میں لکھا ہے کہ حضرت جعفر کی شہادت پر حضرت ابن رواحہ نے علم اپنے ہاتھ میں سنبھالا۔وہ آتش بیاں شاعر تھے۔رجزیہ اشعار سے مجاہدین کو جوش دلاتے اور دائیں بائیں موت بکھیر تے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ان کے رجزیہ اشعار کتب مغازی میں نقل کئے گئے ہیں۔جن میں سے بطور نمونہ بعض یہ ہیں: (السيرة النبوية لابن هشام ، ذكر غزوة مؤتة ، تَشْجِيحُ ابْنِ رَوَاحَةَ النَّاسَ عَلَى الْقِتَالِ، جزء ۲ صفحه ۳۷۵)