صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 98
صحیح البخاری جلد ۹ ۹۸ ۶۴ - كتاب المغازی کا قتل نا جائز اور مکر وہ سمجھا جاتا تھا۔ اگر یہ قتل اتفاقی حادثہ ہوتا تو شرحبیل کی غلطی کا تدارک معذرت ودیت سے ہو سکتا تھا اور اسی غرض سے اسلامی فوج سفید علم کے ساتھ روانہ کی گئی تھی جو صلح کی علامت ہے تا خون ریزی نہ ہو۔ طبقات ابن سعد میں مذکور ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امیر جیش کو سفید علم دے کر ہدایت فرمائی کہ جہاں حارث بن عمیر قتل کئے گئے ہیں وہاں پہنچ کر ان لوگوں کو دعوت اسلام کر ان لوگوں کو دعوت اسلام دیں۔ اگر وہ صلح و آشتی کا پیغام مان لیں تو بہتر ورنہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے ان سے جنگ کی جائے۔ لے سفید علم ہی در حقیقت صلح و امن کا نشان تھا۔ جب اسلامی لشکر علاقہ شام میں معان کے مقام پر پہنچا تو اسے شرحبیل کی بہت بڑی تیاری کا علم ہوا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دور بین نگاہ سے دیکھ لیا تھا کہ حارث کا سفاکانہ فعل انفرادی جرم نہیں بلکہ حکومت اس کی پشت پناہ ہے اور آپ وحی و مکاشفہ کے ذریعہ سے بھی ان ہنگامہ آرائیوں کے بارے میں آگاہ کئے جاچکے تھے جو رومانی اور ایرانی سلطنت سے ہونے والی تھیں۔ (کتاب الجھاد و السیر، باب ۹۳، باب ۱۵۷) یہی مقدر تھا کہ ظالم سلطنتیں یکے بعد دیگرے اسلام سے ٹکرائیں اور پاش پاش ہوتی جائیں تا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود سے آسمانی نوشتہ پورا ہو کہ وہ دنیا میں فتنہ و فساد مٹا کر امن قائم کرے گا۔ یہاں تک کہ کوئی کچلے ہوئے سرکنڈہ کو نہیں توڑے گا۔ (متی باب ۱۲: ۲۰) اور بن گھڑے کونے کے پتھر پر جو گرے گا ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے گا۔ (متی باب ۲۱: ۴۲ تا ۴۵) اس پیشگوئی سے : پیشگوئی سے ظاہر ہے کہ نبی موعود (صلی اعلام) کے ساتھ جو ابتدا کرے گا وہ ہلاک ہو گا۔ چنانچہ یہی ہوا۔ واقعات کی تصدیق سے بڑھ کر اور کوئی تصدیق نہیں ہو سکتی۔ رة غرض غزوہ موتہ انفرادی حادثہ نہیں تھا کہ جس کے لئے تین ہزار مجاہدین کا ایک بڑا لشکر تیار کیا جاتا۔ بلکہ الہی تقدیر تھی جس کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے نافذ ہونا پہلے سے مقدر تھا اور اس میں جیسا کہا گیا تھا ابتدا ظالم سے ہوئی۔ غرور و تکبر نے علاقہ غسان میں بھی وہی کام کیا جو وادی مکہ اور وادی خیبر میں پہلے کر چکا تھا۔ آپ پر حملہ کرنے والے سب اپنے غرور میں مارے گئے۔ شرحبیل بن عمرو کے ہاتھ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نامہ بر کا جو قتل ہوا اس سے ایک چوتھا دور غزوات شروع ہو گیا جو تاریخ اسلام کا مہتم بالشان دور ہے۔ اس غزوہ سے متعلق کتب مغازی کے بیانات کا خلاصہ وہی ہے جو پہلے بیان ہو چکا ہے۔ یعنی جب اسلامی لشکر معان میں پہنچا تو اسے عسائیوں اور رومیوں کی بہت بڑی تیاری کا علم ہوا اور اس نے چاہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دے کر پھر اقدام کیا جائے۔ لیکن حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات تو موجود ہیں۔ اطلاع دینے کے معنی یہ ہیں کہ کثرت سپاہ کا خوف ہے اور الہی نصرت کا یقین نہیں۔ شہادت سے بڑھ کر اور نعمہ کر اور نعمت کونسی ہے جس کے قبول کرنے میں تردد ہو اور آپ کی یہ اصولی ہدایت ہر موقع جنگ پر ایک ہی تھی۔ یعنی خون ریزی سے اجتناب کرنے کی پوری کوشش کی جائے اور امن اور آشتی کا پیغام جو اسلام کا اصل مقصود ہے اس کی دعوت دی الطبقات الكبرى لابن سعد ، سرية مؤتة، جزء ۲ صفحه ۱۲۸، ۱۲۹) (عمدۃ القاری جزء ۷ ۱ صفحه ۲۶۸)