صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 97
۹۷ صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی مردوزن کو محبوب تھی اور وہ اس کو قابل قدر شے سمجھتے تھے۔حضرت عمرہ حضرت نعمان بن بشیر راوی حدیث کی والدہ ہیں اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی بہن۔جہاں تک اس باب کی روایات کا تعلق ہے ان سے سمجھا جا سکتا ہے کہ امام بخاری کے مد نظر کیا امر ذہن نشین کرانا مقصود ہے۔لیکن اس تعلق میں جنگ موتہ کے اسباب اور آنحضرت علی الیکم کی ہدایات کا ذکر کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔عیسائیوں سے یہ پہلی جنگ تھی جس کے بعد سلسلہ غزوات نے بہت طول کھینچا۔یہاں تک کہ سلطنت رومانیہ کی صف مشرق سے لپیٹی گئی اور اس کے زوال کے ساتھ سامی النسل اقوام عرب و یہود وغیرہ نے ایک ہزار سال کے ظالمانہ چنگل سے آزاد ہو کر امن کا سانس لیا۔جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین قریش اور یہود سے نبرد آزما رہے اور آپ کے ہاتھوں سے انہیں شکست پر شکست ہوتی رہی۔عیسائیوں کی ہمدردی آپ کے ساتھ تھی۔نجاشی شاہ حبشہ کی عقیدت مندی، ہرقل شاہ روم کی طرف سے آپ کے خط پر اظہار پسندیدگی اور مقوقس شاہ مصر کی طرف سے تحائف و ہدایا کی پیشکش ان خوشگوار تعلقات کی بین دلیل ہیں جو عیسائیوں اور آپ کے درمیان تھے اور اس خوشگواری کی بڑی وجہ یہ تھی کہ عیسائی یہود کے شدید دشمن تھے اور جیسا کہ بتایا جا چکا ہے ان دونوں گروہوں کے درمیان مذہبی اور اقتصادی کشمکش دیر تک رہی۔عیسائی موحدین کو نہ صرف مشرکین قریش و عرب سے ان کے عقیدہ شرک و صنم پرستی کی وجہ سے نفرت تھی، بلکہ اس لئے بھی وہ ان کے دشمن تھے کہ ان مشرک قبائل عرب کی ہمدرد آتش پرست ایرانی سلطنت چاہتی تھی کہ عرب میں اس کا اثر ورسوخ ہو، تا وہ تجارتی شاہراہوں سے زیادہ فائدہ اُٹھائیں۔اس لئے جب تک مجاہدین اسلام قریش و یہود کے ساتھ بر سر پیکار رہے، عیسائی حکومت ان دونوں کی شکست سے خوش اور ان کے ضعف و اضمحلال میں اپنا اقتصادی اور سیاسی فائدہ دیکھتی تھی۔لیکن جب عیسائی ہمسایہ حکومت نے اسلام کو دن بدن مضبوط ہوتے اور بڑھتے دیکھا تو اسے طبعاً خدشہ پیدا ہوا اور اسی خدشہ کا پہلی دفعہ اظہار غزوہ موتہ میں تھا۔شرحبیل نے دعوت اسلام حقارت سے رڈ کر دی اور نامہ بر کو قتل کر دیا اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حملہ کا اندیشہ ہوا تو جیسا کہ ابھی بتایا جا چکا ہے ، اس نے قبائل عنسان، بنی تخم، بنی جذام وغیرہ کاٹڈی دل لشکر مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کی غرض سے اکٹھا کر لیا۔یہ واقعہ بظاہر نظر انفرادی معلوم ہوتا ہو مگر ایسا نہیں۔صف دشمن میں ہر قل کا بھائی تھیوڈور موجود تھا اور وہ سخت متعصب عیسائی تھا اور رومی فوج اس کی قیادت میں تھی۔لے خود ہر قل بھی اپنی رومی فوج سمیت اس علاقہ کے قریب جہاں جنگ تھی، بمقام مآب خیمہ زن ہوا۔کے عیسائی سلطنت کا یہ اہتمام بلا وجہ نہ تھا بلکہ دلالت کرتا ہے کہ رومیوں کو فی الحقیقت کسی بڑے خطرہ کا احساس پیدا ہو چکا تھا اور وہ مسلمانوں کی کمزوری سے فائدہ اُٹھانا چاہتے تھے۔جس کے لئے شرحبیل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایلچی کو عمد اقتل کیا۔متمدن دنیا کے ہر قانون و ملک میں اپیچی ل التنبيه والإشراف للمسعودى، ذكر السنة الثامنة من الهجرة، صفحه ۲۳۰) تاريخ الشعوب الإسلامية، العلاقات مع البيزنطيين فى مصر وسوريا، صفحه (۵۹) (السيرة النبوية لابن هشام، ذكر غزوة مؤتة ، تخوف النَّاسِ مِن لِقَاءِ هرقل، جزء ۲ صفحه ۳۷۵)