صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 96 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 96

۹۶ صحیح البخاری جلد ۹ ۶۴ - کتاب المغازی ہٹنا مناسب سمجھا، بجائے ان سے جنگ کرنے کے اپنی فوج کی ترتیب و ہیئت بدلی اور میدان جنگ سے اسے محفوظ نکال کیا۔امام ابن حجر نے ان روایتوں کو قبول نہیں کیا اور لکھا ہے کہ موسیٰ بن عقبہ کی مغازی میں جو اصبح المغازی ہے مذکور ہے کہ مسلمان غازیوں نے حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی شہادت کے بعد حضرت خالد بن ولیڈ کو اپنا امیر لواء اتفاق سے چنا۔فَهَزَمَ اللهُ الْعَدُوِّ وَأَظْهَرَ الْمُسْلِمِینَ۔اللہ نے دشمن کو شکست دی اور مسلمانوں کو غالب کیا۔مغازی ابوالا سود کی روایت سے بھی اس امر کی تصدیق ہوتی ہے۔بلکہ مغازی ابن عائذ میں ایک منقطع سند سے یہاں تک مروی ہے: أَنَّ خَالِدًا لَمَّا أَخَذَ الزَّايَةَ قَاتَلَهُمُ قِتَالًا شَدِيدًا حَتَّى الْحَازُ الْفَرِيقَاتِ عَنْ غَيْرِ هَزِيمَةٍ۔یعنی جب حضرت خالد نے جھنڈ ا سنبھالا تو ان سے نہایت ہی سخت لڑائی لڑے۔یہاں تک کہ دونوں فریق میدان جنگ سے بغیر شکست کے ہٹ گئے اور لکھا ہے کہ جب غازی میدانِ جنگ کو جاتے ہوئے ایک بستی سے گزرے جہاں قلعہ تھا تو قلعہ والوں نے ایک مسلمان شخص کو شہید کر دیا۔جب مسلمان واپس لوٹے تو انہوں نے اس قلعہ کا محاصرہ کیا اور شدت کی لڑائی کے بعد وہ فتح ہوا۔ان میں سے لڑنے والے مارے گئے اور خونریز لڑائی کی وجہ سے اس جگہ کا نام نقیع اللہ مشہور ہوا۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۶۴۳) اس واقعہ سے بھی ظاہر ہے کہ صحابہ کرام کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔بلکہ دشمن ہی میدان سے ہٹ گیا تھا۔اس لئے ان کے وہاں ٹھہرنے کی ضرورت نہ رہی۔غرض امام بخاری کی تحقیق اور انتخاب روایات میں مذکورہ بالا اختلاف مدنظر ہے۔باب کی چھٹی اور ساتویں روایت نمبر ۴۲۶۵، ۲۲۶۶) سے بھی جو حضرت خالد بن ولیڈ سے مروی ہیں ظاہر ہے کہ وہ میدان قتال میں پسپا نہیں ہوئے تھے۔بلکہ وہ لڑے اور نو تلواریں ان کے ہاتھ میں ٹوٹیں اور ایک یمنی تلوار ثابت رہی۔واقدی کی روایت کمزور ہے کہ حضرت خالد بن ولیڈ نے مسلمان غازیوں کو میدانِ جنگ سے بچا کر لے جانا غنیمت سمجھا۔پانچویں روایت (نمبر ۴۲۶۴) میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن جعفر کو دو پنکھ والے کے بیٹے کے لقب سے ملقب کیا جاتا تھا۔حضرت جعفر" کے دونوں بازو لڑائی میں کٹ گئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے عوض میں جو ملکی طاقتیں عطاء کی تھیں ان کی وجہ سے یہ لقب مشہور ہوا۔جیسا کہ سہیلی نے اس بارے میں صراحت کی ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۶۴۵) آٹھویں روایت (نمبر ۴۲۶۷) کا تعلق حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی بیماری والی مشی سے ہے کہ ان کی بہن عمر ڈارونے اور بین کرنے لگیں۔بین کے الفاظ یہ تھے: اے اپنی قوم کے پہاڑ ، اے اپنی قوم کی عزت۔ہوش آنے پر انہوں نے اپنی بہن سے کہا کہ تو مجھے ان لقبوں سے یاد کرنے لگی اور مجھ سے اس کے ساتھ ساتھ کہا جاتا کہ کیا فی الواقعہ تو ایسا ہی ہے اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے اس طرح بین کرنے سے روکا۔نویں روایت (نمبر ۴۲۶۸) میں ہے کہ جب وہ زخموں سے نڈھال ہوئے اور جام شہادت پیا تو وہ نہیں روئیں۔شہادت کی موت صحابہ کر ام کے ہر (سبل الهدى والرشاد، الباب السادس والأربعون في سرية مؤتة تنبيهات، جزء ۶ صفحه ۱۵۹،۱۵۸) المغازي للواقدی، غزوة مؤتة، جزء ۲ صفحه ۷۶۳)