صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 96
صحیح البخاری جلد ۹ १५ ۶۴ - کتاب المغازی ہٹنا مناسب سمجھا، بجائے ان سے جنگ کرنے کے اپنی فوج کی ترتیب و ہیئت بدلی اور میدان جنگ سے اسے محفوظ نکال لیا۔ امام ابن حجر نے ان روایتوں کو قبول نہیں کیا اور لکھا ہے کہ موسیٰ بن عقبہ کی مغازی میں جو اصح المغازی ہے مذکور ہے کہ مسلمان غازیوں نے حضرت عبد الله لله بن رواحہ کی شہادت کے بعد حضرت خالد بن ولید کو اپنا امیر لواء اتفاق سے چنا۔ فَهَزَمَ اللهُ الْعَدُوَّ وَأَظْهَرَ الْمُسْلِمِينَ - اللہ نے دشمن کو شکست دی اور مسلمانوں کو غالب کیا۔ مغازی ابوالا سود کی روایت سے بھی اس امر کی تصدیق ہوتی ہے۔ بلکہ مغازی ابن عائذ میں ایک منقطع سند سے یہاں تک مروی ہے : أَنَّ خَالِدًا لَمَّا أَخَذَ الرَّايَةَ قَاتَلَهُمْ قِتَالًا شَدِيدًا حَتَّى الْحَازَ الْفَرِيقَانِ عَنْ غَيْرِ هَزِيمَةٍ ۔ یعنی جب حضرت خالد نے جھنڈ اسنبھالا تو ان سے نہایت ہی سخت لڑائی لڑے۔ یہاں تک کہ دونوں فریق میدان جنگ سے بغیر شکست کے ہٹ گئے اور لکھا ہے کہ جب غازی میدانِ جنگ کو جاتے ہوئے ایک بستی سے گزرے جہاں قلعہ تھا تو قلعہ والوں نے ایک مسلمان شخص کو شہید کر دیا۔ جب مسلمان واپس لوٹے تو انہوں نے اس قلعہ کا محاصرہ کیا اور شدت کی لڑائی کے بعد وہ فتح ہوا۔ ان میں سے لڑنے والے مارے گئے اور خونریز لڑائی کی وجہ سے اس جگہ کا نام نقیع الدم مشہور ہوا۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۶۴۳) اس واقعہ سے بھی ظاہر ہے کہ صحابہ کرام کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ بلکہ دشمن ہی میدان سے ہٹ گیا تھا۔ اس لئے ان کے وہاں ٹھہرنے کی ضرورت نہ رہی۔ غرض امام بخاری کی تحقیق اور انتخاب روایات میں مذکورہ بالا اختلاف مد نظر ہے۔ باب کی چھٹی اور ساتویں روایت نمبر ۴۲۶۵، ۴۲۶۶) سے بھی جو حضرت خالد بن ولید سے مروی ہیں ظاہر ہے کہ وہ میدان قتال میں پسپا نہیں ہوئے تھے۔ بلکہ وہ لڑے اور نو تلواریں ان کے ہاتھ میں ٹوٹیں اور ایک یمنی تلوار ثابت رہی۔ واقدی کی روایت کمزور ہے کہ حضرت خالد بن ولید نے مسلمان غازیوں کو میدانِ جنگ سے بچا کر لے جانا غنیمت سمجھا۔ کے پانچویں روایت (نمبر ۴۲۶۴) میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن جعفر کو دو پنکھ والے کے بیٹے کے لقب سے ملقب کیا جاتا تھا۔ حضرت جعفر کے دونوں بازو لڑائی میں کٹ گئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے عوض میں جو ملکی طاقتیں عطاء کی تھیں ان کی وجہ سے یہ لقب مشہور ہوا۔ جیسا کہ سہیلی نے اس بارے میں صراحت کی ہے۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۶۴۵) آٹھویں روایت (نمبر ۴۲۶۷) کا تعلق حضرت عبد اللہ بن رواحہ کی بیماری والی غشی سے ہے کہ ان کی بہن عمرہ رونے اور بین کرنے لگیں۔ بین کے الفاظ یہ تھے: اے اپنی قوم کے پہاڑ ، اے اپنی قوم کی عزت۔ ہوش آنے پر انہوں نے اپنی بہن سے کہا کہ تو مجھے ان لقبوں سے یاد کرنے لگی اور مجھ سے اس کے ساتھ ساتھ کہا جاتا کہ کیا فی الواقعہ تو ایسا ہی ہے اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے اس طرح بین کرنے سے روکا۔ نویں روایت (نمبر ۴۲۶۸) میں ہے کہ جب وہ زخموں سے نڈھال ہوئے اور جام شہادت پیا تو وہ نہیں روئیں۔ شہادت کی موت صحابہ کرام کے ہر (سبل الهدى والرشاد، الباب السادس والأربعون في سرية مؤتة، تنبيهات، جزء ۶ صفحه ۱۵۹،۱۵۸) المغازى للواقدي، غزوة مؤتة، جزء ۲ صفحه ۷۶۳) رحمة