صحیح بخاری (جلد نہم)

Page 95 of 376

صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 95

صحيح البخاری جلد ۹ ۹۵ ۶۴ - کتاب المغازی قَالَ عَبْدُ اللهِ كُنتُ فيهم: مذکورہ بالا سند سے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ کا قول نقل کیا گیا ہے کہ میں ان غازیوں میں موجود تھا اور حضرت جعفر کے جسم پر نوے سے کچھ زیادہ زخم تھے۔اس سے مراد ہے کہ سارے بدن کے چھوٹے بڑے زخم شمار میں اس قدر تھے۔امام ابن حجر نے ابن اسحاق کی ایک مستند روایت نقل کی ہے، جسے ابو داؤد نے بھی بنی مرہ کے ایک شخص سے نقل شدہ تسلیم کیا ہے کہ حضرت جعفر بن ابی طالب لڑائی کے اثناء میں فرطِ جوش میں اپنے سیاہی مائل گھوڑے سے کو دپڑے کہ وہ تیروں کی بوچھاڑ سے بد کتا تھا اور انہوں نے اس کی کو چیں کاٹ ڈالیں کہ لڑائی کے گھمسان میں وہ آگے بڑھنے سے ڑکا ہے اور وہ دشمن کے لگاتار واروں کا مقابلہ کرتے ہوئے دائیں بائیں تلوار تیزی سے چلاتے اور آگے بڑھتے گئے۔یہاں تک کہ جام شہادت نوش فرمایا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے جانثار ساتھی ملے تھے کہ انہیں خون بار موت کا ڈر ہی نہیں تھا۔دشمن کی بے پناہ تعداد کو دیکھ کر جب غازی کچھ گھبرائے اور مشورہ کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صورتحال سے آگاہ کرنا چاہیے تو ان میں سے حضرت عبد اللہ بن رواحہ نے انہیں حوصلہ دیا اور کہا کہ ہم تعداد و قوت کے بل بوتے پر لڑنے کے لئے نہیں نکلے۔بلکہ اللہ اور اس کے دین کے بھروسہ پر ہماری یہ جنگ ہے۔فَإِنَّمَا هِي إِحْدَى الحُنَيْنِ إِمَا ظُهُورٌ وَإِمَّا شَهَادَةٌ وو اچھی باتوں میں سے ایک ضرور ملے گی غلبہ یا شہادت۔ان کی اس بات سے غازیوں کے حوصلے بلند ہوئے اور سب نے کہا کہ عبد اللہ نے سچ کہا ہے لے اور وہ اس بے جگری سے لڑے کہ سب دشمنوں کے حوصلے پست ہو گئے۔حضرت حضرت عبد اللہ بن رواحہ کے رجزیہ نعروں نے صحابہ کے حوصلوں کو آخر تک بلند رکھا اور یہ بات درست نہیں کہ کسی مرحلہ پر مسلمان دشمنوں سے پسپا ہوئے ہوں۔صحیح بخاری کی روایات سے ظاہر ہے کہ وہ میدان سے اس وقت تک رو نہیں ہے ، جب تک کہ فتح حاصل نہ کر لیں۔کجا تین ہزار صحابہ کا لشکر اور کجا ایک لاکھ زرہ پوش لشکر کا مقابلہ۔غرض پہلی روایت میں میدان جنگ کا نمونہ بیان کیا گیا ہے اور تیسری روایت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ہے کہ آپ کی توجہ میدان جنگ کی طرف تھی اور مذکورہ بالا تین سپہ سالاروں میں سے کوئی سپہ سالار کھیت ہوا تو آپ نے اس کے شہید ہونے کی خبر صحابہ کو سنائی۔آپؐ چشم پر آب تھے۔یہاں تک کہ جب حضرت خالد بن ولید نے علم قیادت سنبھالا تو آپ نے فرمایا کہ ایک الہی تلوار نے پرچم ہاتھ میں لیا ہے اور ان کے لئے نصرت کی دعا مانگی۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت خالہ کے ہاتھ سے غازیان اسلام کو فتح دی۔یہ روایت ایوب سے مروی ہے جو كتاب الجهاد (باب ۱۸۳: مَنْ تَأَمَّرَ فِي الحُزبِ مِنْ غَيْرِ إمْرَةٍ، روايت نمبر ۳۰۶۳) میں گزر چکی ہے۔اس میں یہ الفاظ ہیں مِنْ غَيْرِ المري کہ حضرت خالد آنحضرت ملا لی یم کی طرف سے امیر نامزد نہیں کئے گئے تھے۔خود صحابہ نے انہیں بالا تفاق اپنا سپہ سالار چنا۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۶۴۲) بعض روایتوں میں ہے کہ دشمن کی تعداد ایک لاکھ سے بھی زیادہ تھی اور حضرت خالد بن ولید نے میدان سے (السيرة النبوية لابن هشام ، ذكر غزوة مؤتة، جزء ۴ صفحه ۱۳)