صحیح بخاری (جلد نہم) — Page 94
صحیح البخاری جلد ۹ ۹۴ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٢٦٨ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا عَبْشَرُ :۴۲۶۸: قتیبہ نے ہم سے بیان کیا کہ عبثر (بن عَنْ حُصَيْنٍ عَنِ الشَّعْبِيّ عَنِ النَّعْمَانِ قاسم کوفی) نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے قَالَ أُغْمِيَ عَلَى عَبْدِ اللهِ حصین سے حصین نے شعبی سے ، شعبی نے حضرت بْنِ بَشِيرٍ بْنِ رَوَاحَةَ بِهَذَا فَلَمَّا مَاتَ لَمْ تَبْكِ نعمان بن بشیر سے روایت کی۔انہوں نے کہا: عَلَيْه۔طرفه: ۴۲۶۷ حضرت عبد اللہ بن رواحہ بیہوش ہو گئے۔پھر یہی واقعہ جو اوپر گزر چکا ہے، بیان کیا۔مگر جب وہ فوت ہوئے تو ( اُن کی بہن ) اُن پر نہیں روئی۔تشریح: غَزْوَةُ مُؤْتَةً : مؤنة کے تلفظ کے بارے میں اختلاف ہے۔کامل مبرد کے نزدیک اس کی داد ساکن ہے اور بغیر ہمزہ کے ہے، بر خلاف ثعلب و جوہری کے جنہوں نے واو مهموز نقل کی ہے۔ابن اسحاق کے نزدیک بلقاء الشام کے نزدیک اس نام کا ایک قصبہ مشہور تھا۔بعض نے یہ جگہ بیت المقدس سے دو منزلیں دور بتائی ہے۔فلسطین شام ہی کا ایک متصرفیہ (ضلع) تھا اور یہ علاقہ ہر قل قیصر روم کی عملداری میں شامل تھا۔جس پر اس کی طرف سے شرحبیل بن عمرو عنسانی امیر تھا اور وہ ایک لاکھ فوج کے ساتھ مدینہ طیبہ پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔اس کی یہ فوج جنگجو قبائل لتم، جذام، قین، بہراء اور بی سے تیار اور لیس کی گئی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کی اس چڑھائی کا علم پا کر امیر بصری کی طرف حضرت حارث بن عمیر کو بطور ایلچی بھیجا۔جسے غنسانی امیر نے قتل کروا دیا۔جو رائج الوقت دستور کے خلاف تھا۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین ہزار غازیوں کا لشکر جمادی الاولیٰ ۸ھ میں روانہ فرمایا۔مؤلفین مغازی ابن اسحاق و موسی بن عقبہ وغیرہ کو اس تاریخ کے بارے میں اتفاق ہے۔سیرت ابن ہشام میں بھی یہی تاریخ بیان کی گئی ہے۔مذکورہ بالا عنوان قائم کر کے امام بخاری نے کل نو روایتیں نقل کی ہیں۔جن میں سے تین احادیث رسول صلی یکم ہیں۔دوسری روایت (نمبر ۴۲۶۱) سے ظاہر ہے کہ آپ نے امیر جیش (سپہ سالار ) حضرت زید بن حارثہ کو اس واضح ہدایت کے ساتھ مقرر فرمایا کہ اگر وہ شہید ہو جائیں تو حضرت جعفر بن ابی طالب اور ان کے شہید ہونے پر حضرت عبد اللہ بن رواحہ سپہ سالار ہوں گے۔چنانچہ اس ترتیب سے تینوں نے میدان جنگ میں فوج کی قیادت سنبھالی۔حضرت جعفر کے زخموں کی تعداد سے متعلق بیان میں جو اختلاف ہے وہ چنداں اہمیت نہیں رکھتا۔پہلے حصہ روایت میں نیزے اور تیر کے پچاس زخموں سے متعلق یہ صراحت ہے کہ ان میں سے کوئی زخم پیٹھ پر نہیں تھا۔جس سے ظاہر ہے کہ انہوں نے یہ زخم اپنے جسم کے سامنے حصہ پر لئے۔یعنی بہادری سے دشمن کا مقابلہ کیا، پیٹھ نہیں موڑی۔ل (السيرة النبوية لابن هشام ، ذکر غزوة مؤتة، جزء ۴ صفحه ۱۳۱۱) (فتح الباری جزءے صفحہ ۶۳۹)