صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 93 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 93

صحیح البخاری جلد ۸ ۹۳ ۶۴ - کتاب المغازی تشریح یہ باب بھی بلا عنوان ہے اور اس کے تحت نہیں روایتیں ہیں جن میں بچیں؟ مجاہدین بدر کے نام اس تصریح کے ساتھ مذکور ہیں کہ وہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے۔ ہوئے تھے اور ان سے متعلق بعض واقعات رقم بیان کئے گئے ہیں۔ روایت نمبر ۴۰۰۱ میں حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء کا نام آتا ہے۔ حضرت معوذ وہی نوجوان ہیں جنہوں نے ابو جہل کو قتل کیا تھا اور حضرت ربیع حضرت معوذ کی لڑکی تھیں ۔ لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ (روایت نمبر ۴۰۰۲) کی وضاحت کے لیے کتاب بدء الخلق تشریح باب سے دیکھئے۔ روایت نمبر ۴۰۱۹ خاص طور پر قابل توجہ ہے۔ زبان سے اسلام کا اقرار کرنے پر وہ دشمن بھی جس نے لڑائی میں کسی مسلمان کو زخمی کیا ہو محفوظ و مامون ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اس پر جوابی حملہ بھی جائز نہیں۔ اس تعلق میں كتاب الإيمان تشریح باب ۷ ابھی دیکھئے۔ روایت نمبر ۴۰۲۴ میں الفتنی سے قریش کی بدبودار لاشیں بھی مراد لی گئیں ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لاشوں کے دیے جانے کی اجازت نہ دی۔ وہ اس قابل نہیں تھیں کہ مکہ مکرمہ میں لے جائی جاتیں۔ اس کے علاوہ ورثاء مقتولین کی تکلیف اور اشتعال انگیزی کا باعث ہوتیں۔ روایت نمبر ۴۰۲۴ میں تین فتنوں کا بھی ذکر ہے۔ امام ابن حجر کے نزدیک یحی بن سعید کی مراد وہ فتنے ہیں جو مدینہ میں رونما ہوئے اور جن کا تعلق ارض حجاز سے ہے۔ پہلا فتنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے شہید کئے جانے کا ہے۔ دوسرا فتنہ واقعہ حرہ کا ہے۔ حرہ سیاہ پتھروں والا میدان ہے جو مدینہ کے مشرقی جانب ہے۔ اس میں یزید بن معاویہ کا لشکر اہل مدینہ پر چڑھائی کے لئے آکر اُترا۔ اس لشکر کا سردار مسلم بن عقبہ تھا۔ یہ واقعہ ۶۳ ھ کا ہے۔ جنگ میں سات سو مہاجرین اور انصار مارے گئے۔ (عمدۃ القاری جزء۱۷ صفحه (۱۱۹) تیسر ا فتنہ بعض شارحین کے نزدیک از ارقہ (خوارج) کا فتنہ ہے جو یزید بن معاویہ کی موت کے بعد رونما ہوا اور میں سال سے زیادہ مدت تک رہا۔ اور بعض کے نزدیک ابو حمزہ خارجی کا فتنہ ہے۔ خارجیوں کا یہ فتنہ ۳۰ ھ میں ہوا جبکہ مروان بن محمد بن مروان بن حکم امیر شام تھا۔ یحییٰ بن سعید اس وقت زندہ تھے۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۴۰۶) فَلَمْ تَرْتَفِعُ وَلِلنَّاسِ طَبَاح : طَبَاح کے معنی طاقت ، قدرت اور عقل و شعور کے ہیں۔ حضرت حسان بن ثابت کا ایک شعر ہے جس میں طباخ کا لفظ انہوں نے استعمال کیا ہے۔ وہ کہتے ؟ ہیں: الْمَالُ يَغْشَى رِجَالًا لَا طَبَاخَ لَهُمْ كَالسَّيلِ يَغْشَى أُصُولَ الدِّنْدِنِ الْبَالِي ( فتح الباری جزءے صفحہ ۴۰۶) یعنی مال ایسے لوگوں کے پاس آتا ہے جنہیں عقل و شعور نہیں ہو تا جس طرح سیلاب پودوں کی بوسیدہ جڑھیں ڈھانپ لیتا ہے فَجَمِيعُ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنْ قُرَيش: مهاجرین قریش جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے، مطابق روایت حضرت براء بن عازب ساٹھ سے اوپر تھے۔ (روایت نمبر ۳۹۵۶) اور ان کی تعداد روایت نمبر ۴۰۲۶ میں اکاسی اور یکصد بتائی گئی ہے۔ ابن اسحاق نے مہاجرین کی تعداد مع موالی و حلفاء تراسی اور ہشام بن یوسف صنعائی نے مہاجرین بدر