صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 93
صحيح البخاری جلد ۸ ۹۳ ۶۴ - کتاب المغازي تشریح یہ باب بھی بلاعنوان ہے اور اس کے تحت بنتیں روایتیں ہیں جن میں پچھیں مجاہدین بدر کے نام اس تصریح کے ساتھ مذکور ہیں کہ وہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے اور ان سے متعلق بعض واقعات بیان کئے گئے ہیں۔روایت نمبر ۲۰۰۱ میں حضرت ربیع بنت معوذ بن عفراء کا نام آتا ہے۔حضرت معود وہی نوجوان ہیں جنہوں نے ابو جہل کو قتل کیا تھا اور حضرت ربیع حضرت معودؓ کی لڑکی تھیں۔لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيْهِ كَلْبٌ وَلَا صُورَةٌ (روایت نمبر ۴۰۰۲) کی وضاحت کے لیے کتاب بدء الخلق تشریح بابے دیکھئے۔روایت نمبر ۴۰۱۹ خاص طور پر قابل توجہ ہے۔زبان سے اسلام کا اقرار کرنے پر وہ دشمن بھی جس نے لڑائی میں کسی مسلمان کو زخمی کیا ہو، محفوظ و مامون ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اس پر جوابی حملہ بھی جائز نہیں۔اس تعلق میں كتاب الإيمان تشریح باب ۷ ابھی دیکھئے۔روایت نمبر ۴۰۲۴ میں آلنشئی سے قریش کی بدبو دار لاشیں بھی مراد لی گئیں ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لاشوں کے دیے جانے کی اجازت نہ دی۔وہ اس قابل نہیں تھیں کہ مکہ مکرمہ میں لے جائی جاتیں۔اس کے علاوہ ورثاء مقتولین کی تکلیف اور اشتعال انگیزی کا باعث ہوتیں۔روایت نمبر ۴۰۲۴ میں تین فتنوں کا بھی ذکر ہے۔امام ابن حجر" کے نزدیک یحی بن سعید کی مراد وہ فتنے ہیں جو مدینہ میں رونما ہوئے اور جن کا تعلق ارض حجاز سے ہے۔پہلا فتنہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے شہید کئے جانے کا ہے۔دوسرا فتنہ واقعہ حرہ کا ہے۔حرہ سیاہ پتھروں والا میدان ہے جو مدینہ کے مشرقی جانب ہے۔اس میں یزید بن معاویہ کا لشکر اہل مدینہ پر چڑھائی کے لئے آکر اترا۔اس لشکر کا سردار مسلم بن عقبہ تھا۔یہ واقعہ ۶۳ ھ کا ہے۔جنگ میں سات سو مہاجرین اور انصار مارے گئے۔(عمدۃ القاری جزء ۱ صفحہ ۱۱۹) تیسر افتنہ بعض شارحین کے نزدیک ازارقہ (خوارج) کا فتنہ ہے جو یزید بن معاویہ کی موت کے بعد رونما ہوا اور میں سال سے زیادہ مدت تک رہا۔اور بعض کے نزدیک ابو حمزہ خارجی کا فتنہ ہے۔خارجیوں کا یہ فتنہ ۱۳۰ھ میں ہوا جبکہ مروان بن محمد بن مروان بن حکم امیر شام تھا۔یحی بن سعید اس وقت زندہ تھے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۴۰۶) فَلَمْ تَرْتَفِعُ وَلِلنَّاسِ طَبَاخُ طَبَاح کے معنی طاقت ، قدرت اور عقل و شعور کے ہیں۔حضرت حسان بن ثابت کا ایک شعر ہے جس میں طباخ کا لفظ انہوں نے استعمال کیا ہے۔وہ کہتے ہیں: الْمَالُ يَغْشَى رِجَالًا لَّا طَبَاخَ لَهُمْ كَالسَّيلِ يَخْشَى أُصُولَ الدِّنْينِ الْبَالِي (فتح الباری جزءے صفحہ ۴۰۶) یعنی مال ایسے لوگوں کے پاس آتا ہے جنہیں عقل و شعور نہیں ہوتا جس طرح سیلاب پودوں کی بوسیدہ جڑ ھیں ڈھانپ لیتا ہے فَجَمِيعُ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنْ قُرَيْشٍ : مهاجرين قريش جو غزوہ بدر میں شریک ہوئے، مطابق روایت حضرت براء بن عازب ساٹھ سے اوپر تھے۔(روایت نمبر ۳۹۵۶) اور ان کی تعداد روایت نمبر ۴۰۲۶ میں اکاسی اور یکصد بتائی گئی ہے۔ابن اسحاق نے مہاجرین کی تعداد مع موالی و حلفاء تر اسی اور ہشام بن یوسف صنعانی نے مہاجرین بدر