صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 90
صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازي آلَافٍ خَمْسَةَ آلَافٍ، وَقَالَ عُمَرُ بن ابي حازم) سے روایت کی کہ غزوہ بدر میں لَأُفَضْلَنَّهُمْ عَلَى مَنْ بَعْدَهُمْ۔شریک ہونے والوں کا (سالانہ ) عطیہ پانچ پانچ ہزار تھا۔اور حضرت عمرؓ نے کہا کہ میں انہیں فوقیت دوں گا اُن پر جو ان کے بعد ( کے صحابہ ) ہیں۔٤٠٢٣ : حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ :۴۰۲۳: اسحاق بن منصور (مروزی) نے مجھے بتایا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَن کہ عبد الرزاق نے ہم سے بیان کیا کہ معمر نے الزُّهْرِيِّ عَنْ مُّحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيْهِ ہمیں خبر دی۔انہوں نے زہری سے ، زہری نے قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ محمد بن جبیر سے، ابن جبیر نے اپنے باپ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا: میں نے نبی صلی اللہ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ وَذَلِكَ علیہ وسلم کو مغرب کی نماز میں سورہ طور پڑھتے أَوَّلَ مَا وَقَرَ الْإِيْمَانُ فِي قَلْبِي۔ہوئے سنا اور یہ پہلا موقع ہے کہ ایمان میرے اطرافه ۷۶۵، ۳۰۵۰، ۴۸۵۴ دل میں بیٹھ گیا۔٤٠٢٤: وَعَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ مُّحَمَّدِ :۴۰۲۴ اور زہری سے مروی ہے۔انہوں نے محمد بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِيْهِ أَنَّ النَّبِيَّ بن جبیر بن مطعم سے، انہوں نے اپنے باپ سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي أُسَارَى روایت کی کہ نبی صلی الی ٹیم نے بدر کے قیدیوں کی نسبت فرمایا کہ اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتے اور بَدْرٍ لَوْ كَانَ الْمُطْعِمُ بْنُ عَدِي حَيًّا ثُمَّ پھر وہ مجھ سے ان بد بو دار لوگوں کے بارے میں كَلَّمَنِي فِي هَؤُلَاءِ النَّتْنَى لَتَرَكْتُهُمْ لَهُ۔سفارش کرتے تو میں ان کی خاطر انہیں چھوڑ دیتا۔وَقَالَ اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ اور لیث نے یحی بن سعید (بن قیس) سے۔بچی نے عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ وَقَعَتِ الْفِتْنَةُ سعيد بن مسیب سے روایت کی۔انہوں نے کہا: الْأَوْلَى يَعْنِي مَقْتَلَ عُثْمَانَ فَلَمْ تُبْقِ پہلا فتنہ یعنی حضرت عثمان کی شہادت ایسے وقت مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ أَحَدًا ثُمَّ وَقَعَتِ میں ہوئی کہ بدر میں شریک ہونے والوں میں سے الْفِتْنَةُ الثَّانِيَةُ يَعْنِي الْحَرَّةَ فَلَمْ تُبْقِ کوئی باقی نہ تھا۔پھر اس کے بعد دوسرا فتنہ یعنی حرہ