صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 88 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 88

صحیح البخاری جلد ۸ MA ۶۴ - کتاب المغازي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ إِنْ لَقِيْتُ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: ( یارسول اللہ !) بتائیں رَجُلًا مِنَ الْكُفَّارِ فَاقْتَتَلْنَا فَضَرَبَ اگر کفار میں سے کسی شخص سے میرا مقابلہ ہو جائے إِحْدَى يَدَيَّ بِالسَّيْفِ فَقَطَعَهَا ثُمَّ اور ہم دونوں لڑ پڑیں اور وہ میرا ایک ہاتھ تلوار لَاذَ مِنِّي بِشَجَرَةٍ فَقَالَ أَسْلَمْتُ لِلَّهِ سے کاٹ ڈالے۔پھر مجھ سے ایک درخت کی پناہ أَأَقْتُلُهُ يَا رَسُوْلَ اللهِ بَعْدَ أَنْ قَالَهَا لے کر یہ کہے: میں اللہ کی خاطر مسلمان ہو گیا۔فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ یا رسول اللہ ! کیا اب میں اس کو مار ڈالوں جبکہ اس وَسَلَّمَ لَا تَقْتُلُهُ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ نے ایسی بات کہی ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إِنَّهُ قَطَعَ إِحْدَى يَدَيَّ ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ نے فرمایا: تم اسے قتل نہ کرو۔حضرت مقد اڈ نے کہا: بَعْدَ مَا قَطَعَهَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ يا رسول اللہ! اس نے میرا ایک ہاتھ کاٹ ڈالا ہے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَقْتُلُهُ فَإِنْ اور پھر اس کے بعد ایسا کہا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ أَنْ تَقْتُلُهُ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے قتل نہ کرو کیونکہ اگر تم نے قَتَلْتَهُ فَإِنَّهُ بِمَنْزِلَتِكَ قَبْلَ أَنْ تَقْتُلَهُ اسے قتل کر دیا تو وہ تمہارے اس درجہ پر ہو جائے گا جو تم کو اُس کے قتل کرنے سے پہلے حاصل تھا اور تم اس کے درجہ پر ہو جاؤ گے جو اُس کو اس کلمہ کے کہنے سے پہلے حاصل تھا جس کو اُس نے کہا۔وَإِنَّكَ بِمَنْزِلَتِهِ قَبْلَ أَنْ يَقُوْلَ كَلِمَتَهُ الَّتِي قَالَ۔طرفه: ۶۸۶۵ ٤٠٢٠: حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :۴۰۲۰ یعقوب بن ابراہیم نے مجھ سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ (اسماعیل) بن علیہ نے ہمیں بتایا کہ سلیمان (بن التَّيْمِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسٌ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ طرفان تیمی نے ہم سے بیان کیا کہ حضرت انس قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ رضی اللہ عنہ نے ہمیں بتایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ہم سے) بدر کے دن فرمایا: کون دیکھے وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ مَنْ يَّنْظُرُ مَا صَنَعَ گا کہ ابو جہل کا کیا حال ہے؟ یہ سن کر (حضرت أَبُو جَهْلِ فَانْطَلَقَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ فَوَجَدَهُ عبد الله بن مسعودؓ چلے گئے اور دیکھا کہ عفراء قَدْ ضَرَبَهُ ابْنَا عَفْرَاءَ حَتَّى بَرَدَ فَقَالَ کے دونوں بیٹوں (حضرت معاذ اور حضرت معوذ ) أَنْتَ أَبَا جَهْلٍ قَالَ ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ نے اسے اتنا مارا ہے کہ وہ ٹھنڈا پڑ گیا ہے۔حضرت