صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 84
صحیح البخاری جلد ۸ ۸۲ ۶۴ - کتاب المغازی وَهُوَ أَحَدُ بَنِي سَالِمٍ وَهُوَ مِنْ سَرَاتِهِمْ اس کے بعد میں نے حصین بن محمد (انصاری) سے عَنْ حَدِيْثِ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ حضرت محمود بن ربیع کی اس حدیث کی نسبت پوچھا عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ فَصَدَّقَهُ۔ جو انہوں نے حضرت عتبان بن مالک سے روایت کی۔ اور (حصین بن محمد ) قبیلہ بنی سالم کے ایک فرد اور اس کے سرداروں میں سے تھے۔ انہوں نے حضرت محمود کی ( اس روایت کی تصدیق کی۔ اطرافه: ۴۲۴، ۴۲۵، ۶۶۷ ، ۶۸۶، ۸۳۸، ۸۴۰، ۱۱۸۶، ۲۰۰۹، ۵۴۰۱، ۶۴۲۳، ۶۹۳۸ ٤٠١١ : حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۲۰۱۱: ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب نے شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي ہمیں بتایا۔ زہری سے روایت ہے ، انہوں نے کہا: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ وَكَانَ عبد الله بن عامر بن ربیعہ نے مجھے خبر دی اور وہ مِنْ أَكْبَرِ بَنِي عَدِي وَكَانَ أَبُوهُ شَهِدَ سرداران بنی عدی میں سے تھے اور ان کے باپ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر میں شریک رحم تھے، انہوں نے کہا:) حضرت عمرؓ نے حضرت أَنَّ عُمَرَ اسْتَعْمَلَ قُدَامَةَ بْنَ مَظْعُوْنٍ عَلَى الْبَحْرَيْنِ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا قدامہ بن مظعون کو بحرین کا امیر مقرر کیا اور یہ یہ بھی بدر میں شریک ہوئے تھے اور یہ حضرت وَهُوَ خَالُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَحَفْصَةَ عبداللہ بن عمر اور (ام المومنین ) حضرت حفصہ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ۔ رضی اللہ عنہم کے ماموں تھے۔ ٤٠١٢ - ٤٠١٣ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ ۴۰۱۲-۴۰۱۳: عبد اللہ بن محمد بن اسماء نے ہم بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ سے بیان کیا کہ جو یر یہ ( بن اسماء ) نے ہمیں بتایا۔ عَنْ مَالِكٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ سَالِمَ بْنَ انہوں نے مالک سے ، مالک نے زہری سے روایت عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَهُ قَالَ أَخْبَرَ رَافِعُ کی کہ سالم بن عبد اللہ نے انہیں خبر دی، کہا: حضرت بْنُ خَدِيجٍ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ أَنَّ رافع بن خدیج نے حضرت عبد اللہ بن عمر" کو بتایا کہ عَمَّيْهِ وَكَانَا شَهِدَا بَدْرًا أَخْبَرَاهُ أَنَّ ان کے دونوں چوں نے جو بدر میں شریک تھے رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھیتوں کو