صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 85 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 85

صحيح البخاری جلد ۸ ۸۵ ۶۴ - کتاب المغازي عَنْ كِرَاءِ الْمَزَارِعِ قُلْتُ لِسَالِمٍ ٹھیکہ پر دینے سے روکا ہے۔زہری نے سالم سے فَتُكْرِيْهَا أَنْتَ قَالَ نَعَمْ إِنَّ رَافِعًا کہا: آپ تو انہیں ٹھیکے پر دیتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں (ہم تو دیتے ہیں) حضرت رافع نے اپنے او پر زیادتی کی۔أَكْثَرَ عَلَى نَفْسِهِ۔اطرافه (۲۳۳۹ ۲۳۴۶، ۲۳۴۷ ٤٠١٤ : حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ۴۰۱۴ : آدم بن ابی ایاس) نے ہم سے بیان کیا کہ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَن قَالَ شعبہ نے ہمیں بتایا۔حصین بن عبد الرحمن سے سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ روایت ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے عبد اللہ بن شداد بن ہادلیشی سے سنا۔وہ کہتے تھے: میں نے بدری صحابی تھے۔اللَّيْنِيَّ قَالَ رَأَيْتُ رِفَاعَةَ بْنَ رَافِعٍ حضرت رفاعہ بن رافع انصاری کو دیکھا اور وہ الْأَنْصَارِيُّ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا۔٤٠١٥: حَدَّثَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ :۴۰۱۵ عبدان نے ہم سے بیان کیا کہ عبد اللہ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ وَيُونُسُ عَن الزُّهْري بن) مبارک مروزی) نے ہمیں خبر دی کہ معمر عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ اور یونس نے ہمیں بتایا۔انہوں نے زہری سے، الْمِسْوَرَ بْنَ مَحْرَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَمْرَو زہری نے عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ انہوں نے ان کو خبر دی۔حضرت مسور بن مخرمہ نے ان کو بْنَ عَوْفٍ وَهُوَ حَلِيْفٌ لِبَنِي عَامِرِ بْنِ بتایا کہ حضرت عمرو بن عوف نے جو بنو عامر بن لوئی لُؤَيّ وَكَانَ شَهِدَ بَدْرًا مَعَ النَّبِيِّ کے حلیف اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر میں صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ شریک تھے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح کو بحرین کی طرف بْنَ الْجَرَّاحِ إِلَى الْبَحْرَيْنِ يَأْتِي بِجِزْيَتِهَا جزیہ لینے کے لئے بھیجا اور رسول اللہ صلی اللہ وَكَانَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ علیہ وسلم نے بحرین والوں سے صلح کی تھی اور ان پر وَسَلَّمَ هُوَ صَالَحَ أَهْلَ الْبَحْرَيْنِ وَأَمَّرَ حضرت علاء بن حضرمی کو امیر مقرر کیا تھا۔چنانچہ عَلَيْهِمُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَضْرَمِي فَقَدِمَ حضرت ابو عبیدہ بحرین سے مال لے کر آئے اور أَبُو عُبَيْدَةَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ فَسَمِعَتِ انصار نے حضرت ابو عبیدہ کے آنے سے متعلق سنا