صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 3
صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی کے فاصلہ پر اور وڈان ابواء سے چھ سات میل کے فاصلے پر ہے اور یہ دونوں مقام مدینہ کی ریاست کی آخری سرحد پر واقع ہیں۔ابواء میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی والدہ ماجدہ کا مزار ہے۔ان علاقوں میں قبیلہ بنو ضمرہ کے لوگ آباد تھے اور یہ قبیلہ قریش کے قریب تھا۔علاقہ عشیرہ میں بھی قریش کے حلیف بنو ضمرہ اور بنو مدلج آباد تھے۔یہ علاقہ بندرگاہ ینبوع کے نواح میں مدینہ سے نوے میل دور واقع ہے۔اس لئے قرین قیاس ہے کہ پہلا معاہدہ اُن قبائل سے ہوا جو قریب تر علاقے میں آباد تھے اور اس کے بعد آخری سرحدی علاقے کے قبائل سے۔بواط علاقہ عشیرہ کے قریب ہے۔بنو مدلج کے سردار نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی معاہدہ طے کیا کہ وہ قریش کے حملہ کے وقت غیر جانبدار رہیں گے نہ قریش کی مدد کریں گے اور نہ مدینہ والوں کی اور اپنے علاقہ میں امن قائم رکھیں گے۔ان قبائل کے ساتھ معاہدات ضبط تحریر میں لائے گئے۔جن کا ذکر ابن سعد اور ابن ہشام نے بالا تفاق کیا ہے۔ان میں کوئی لڑائی نہیں ہوئی اور دونوں میں علم سفید تھے۔جو صلح و آشتی پر دلالت کرتے ہیں۔إلى البحرين والعراق مدینه إلى خيبر بواط السقيا مه ساحل سمندر ساحلی تجارتی راسته کشادہ پہاڑی راستہ تنگ پہاڑی راستہ إلى مكة 50 Km پدر إلى وادي القرى و تبوك والشام إلى الشام تعشيرة الرايس ينبوع