صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 4 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 4

سلام صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی غرض ابتدائی غزوات میں دفاعی نقطہ نگاہ سے خود حفاظتی کی ایک تدبیر مد نظر تھی جنگ کرنا مقصد نہ تھا کیونکہ یہ بات خلاف عقل ہے کہ ہمسایہ قبائل سے ایسے وقت میں لڑائی چھیڑ دی جائے جبکہ قریش مکہ کے حملے کا شدید خطرہ در پیش ہو۔امام بخاری نے حضرت زید بن ارقم کی روایت پر اعتماد کیا ہے۔ان کے نزدیک غزوات کی تعداد انیس ہے۔جبکہ طبقات ابن سعد میں ستائیس کا ذکر ہے۔۔پر بَاب ۲ : ذِكْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُقْتَلُ بِبَدْرٍ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ان لوگوں کا نام لینا جو بدر میں مارے جائیں گے أَبِي إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ ٣٩٥٠ : حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ :۳۹۵۰ احمد بن عثمان نے مجھے بتایا۔شریح بن مسلمہ حَدَّثَنَا شُرَيْحُ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا نے ہم سے بیان کیا کہ ابراہیم بن یوسف نے ہمیں إِبْرَاهِيمُ بْنُ يُوسُفَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ بتایا۔انہوں نے اپنے باپ (یوسف بن اسحاق) سے، ان کے باپ (یوسف) نے ابو اسحاق (سبیعی) سے روایت کی۔انہوں نے کہا : عمرو بن میمون نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت عبد اللہ اللهُ عَنْهُ حَدَّثَ عَنْ سَعْدِ بْنِ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا۔انہوں نے حضرت أَنَّهُ قَالَ كَانَ صَدِيقًا لِأُمَيَّةَ بْنِ سعد بن معاذ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: وہ خَلَفٍ وَكَانَ أُمَيَّةُ إِذَا مَرَّ بِالْمَدِينَةِ أمير بن خلف کے دوست تھے۔امیہ جب مدینہ نَزَلَ عَلَى سَعْدٍ وَكَانَ سَعْدٌ إِذَا مَرَّ سے گزرتا تو حضرت سعد کے پاس ٹھہرتا اور بِمَكَّةَ نَزَلَ عَلَى أُمَيَّةَ فَلَمَّا قَدِمَ حضرت سعد جب مکہ سے گزرتے تو اُمیہ کے پاس رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مہمان ہوتے۔جب رسول اللہ صلی کم مدینہ میں آگئے حضرت سعد عمرہ کرنے کے لئے مکہ گئے اور مُعَاذٍ الْمَدِينَةَ انْطَلَقَ سَعْدٌ مُعْتَمِرًا فَنَزَلَ امیہ کے ہاں ٹھہرے۔انہوں نے اُمیہ سے کہا: عَلَى أُمَيَّةَ بِمَكَّةَ فَقَالَ لِأُمَيَّةَ انْظُرْ لي مرے لئے ایسا کوئی خالی وقت دیکھو کہ میں بیت سَاعَةَ حَلْوَةٍ لَعَلّي أَنْ أَطُوْفَ بِالْبَيْتِ اللہ کا طواف کرلوں۔چنانچہ امیہ ان کو دو پہر کے فَخَرَجَ بِهِ قَرِيْبًا مِنْ نِصْفِ النَّهَارِ قریب لے کر نکلا۔ابو جہل ان سے ملا اور کہنے لگا: فَلَقِيَهُمَا أَبُو جَهْلِ فَقَالَ يَا أَبَا صَفْوَانَ ابو صفوان ! یہ تمہارے ساتھ کون ہیں؟ اس نے کہا: الطبقات الکبری لابن سعد، ذکر عدد مغازی رسول الله ، جزء ۲، صفحه ۵)