صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 2 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 2

صحيح البخاری جلد ۸ -۶۴ کتاب المغازی قَالَ كَمْ غَزَوْتَ أَنْتَ مَعَهُ قَالَ آنحضرت علی ظلم کی معیت میں آپ کتنی مہمات سَبْعَ عَشْرَةَ قُلْتُ فَأَيُّهُمْ كَانَتْ أَوَّلَ میں شریک ہوئے؟ انہوں نے کہا: سترہ میں۔قَالَ الْعُشَيْرُ أَوْ الْعُسَيْرَةُ فَذَكَرْتُ ابو اسحاق کہتے تھے : میں نے پوچھا: مہمات میں سے پہلی کونسی تھی ؟ انہوں نے کہا: ”شیر“ یا کہا: لِقَتَادَةَ فَقَالَ الْعُشَيْرَةُ۔اطرافه : ۴۴۰۴، ۴۴۷۱ غیرہ" میں نے اس بارے میں قتادہ سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا : عشیرہ“۔تشريح غَزْوَةُ الْعُشَيْرَة أَوِ الْحُسَيرَةِ: زیر باب جس غزوہ کا ذکر ہے وہ لڑائی کی غرض سے نہ تھا اور نہ اس باب کا یہ مقصد ہے کہ یہ شمار کیا جائے کہ غزوہ عشیرہ پہلی مہم تھی جو اختیار کی گئی۔بلکہ طبقات ابن سعد کے کی ایک غلطی کا ازالہ کرنا مقصود ہے۔اس کتاب میں واقدی کی سند سے بعض روایتیں منقول ہیں جو سنی سنائی ہیں اور اس میں یہ کوشش نہیں کی گئی کہ ان کی صحت و سقم کے متعلق تحقیق کی جائے۔تحقیق کا کام بعد کے مؤرخین نے کیا ہے۔امام بخاری نے ان کی روایتیں اخذ کرنے میں بڑی احتیاط سے کام لیا ہے۔ابن سعد نے غزوہ عشیرہ کو چو تھا غزوہ شمار کر کے بتایا ہے کہ یہ مہم ہجرت سے سولہ ماہ بعد اختیار کی گئی تھی اور بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قریش کے ایک تجارتی قافلے کی خبر سن کر ڈیڑھ دو سو غازیوں کے ساتھ مدینہ سے نکلے تھے۔سے واقدی کی یہ روایت درست نہیں بلکہ اس کے مقابل پر محمد بن اسحاق مطلبی کی روایت صحیح ہے جس کا عنوان باب میں حوالہ دیا گیا ہے کہ پہلی مہم ابواء کی ہے، دوسری مہم بواط کی اور تیسری مہم عشیرہ کی۔سے یہ مہمیں ہجرت سے دوسرے سال کے اوائل میں شروع ہو ئیں اور ان میں سے پہلی مہم غزوہ ابواء اور وڈان کی ہے جو قبیلہ بنو ضمرہ سے معاہدہ طے کرنے کے لئے اختیار کی گئی تھی۔اس قبیلہ نے اقرار کیا کہ قریش مکہ کے حملے کی صورت میں وہ غیر جانبدار رہے گا اور مدینہ کے خلاف قریش مکہ کی مدد نہیں کرے گا۔چنانچہ وہاں کوئی لڑائی نہیں ہوئی۔واقدی کی روایت کا مخدوش ہونا اس امر سے ظاہر ہے کہ خود ان کی روایت میں بھی مذکور ہے کہ اس مہم کا علم (جھنڈا) سفید تھا اور حضرت حمزہ بن عبد المطلب علمبر دار تھے۔ظاہر ہے کہ سفید علم امن و صلح کی علامت ہے۔اس قرینہ کے علاوہ یہ قرینہ بھی ہے کہ ابواء اور وڈان مدینہ منورہ کا نواحی علاقہ ہے۔ابواء مقام مدینہ سے تقریباً ۱۴۰ میل 1 فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ قیل ہے (فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۳۴۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔یہ تالیف محمد بن سعد کی ہے جو واقدی کے شاگردوں میں سے تھے۔خطیب احمد بغدادی نے ان کے علم و فضل کا اقرار کیا ہے۔(تہذیب التہذیب، حرف الميم ، محمد بن سعد بن منیع، جزء ۹ صفحه ۱۸۲) (الطبقات الكبرى، ذكر عدد مغازی رسول اللہ ﷺ ، غزوة ذى العشيرة، جزء ۲، صفحه ۹) (السيرة النبوية لابن هشام ، ذكر جملة الغزوات، جزو ۴ صفحه ۲۵۵) (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية، كتاب المغازی، اول المغازی ودان، جزء ۲ صفحه ۲۲۹ ۲۳۰)