صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 82
صحيح البخاری جلد ۸ Ar ۶۴ - کتاب المغازي ٤٠٠٦ حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ٢٠٠٦: مسلم ( بن ابراہیم ) نے ہم سے بیان کیا کہ ۲۰ عَنْ عَدِي عَنْ عَبْدِ اللهِ بن يَزِيدَ شعبہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے عدی بن ابان) سے، عدی نے عبد اللہ بن یزید سے روایت کی، سَمِعَ أَبَا مَسْعُوْدٍ الْبَدْرِيَّ عَنِ النَّبِيِّ انہوں نے حضرت ابو مسعود بدری سے سنا، وہ نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَفَقَةُ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایتا بیان کرتے تھے کہ آپ نے فرمایا: آدمی کا اپنے گھر والوں پر خرچ الرَّجُلِ عَلَى أَهْلِهِ صَدَقَةٌ۔أطرافه: ۵۳۵۱،۵۵ کرنا بھی صدقہ ہے۔٤٠٠٧: حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا ۴۰۰۷ ابوالیمان نے ہم سے بیان کیا کہ شعیب شُعَيْبٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ سَمِعْتُ عُرْوَةَ نے ہمیں بتایا۔زہری سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ( عروہ بن زبیر سے میں نے سنا۔انہوں بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ نے عمر بن عبد العزیز سے ان کے زمانہ امارت فِي إِمَارَتِهِ أَخَرَ الْمُغِيْرَةُ بْنُ شُعْبَةَ میں بیان کیا کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ نے عصر کی الْعَصْرَ وَهُوَ أَمِيرُ الْكُوفَةِ فَدَخَلَ نماز میں دیر کر دی اور اس وقت وہ کوفہ کے حاکم أَبُو مَسْعُودٍ عُقْبَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيُّ تھے ، حضرت ابو مسعود عقبہ بن عمر و انصاری جو جَدُّ زَيْدِ بْنِ حَسَنِ شَهِدَ بَدْرًا فَقَالَ زيد بن حسن بن علی) کے نانا اور ان صحابہ لَقَدْ عَلِمْتَ نَزَلَ جِبْرِيلُ فَصَلَّی میں سے تھے جو بدر میں شریک ہوئے حضرت مغیرہ کے پاس آئے اور کہنے لگے : تمہیں بخوبی علم فَصَلَّى رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ہے کہ جبریل آئے اور انہوں نے (پانچ) نمازیں وَسَلَّمَ خَمْسَ صَلَوَاتٍ ثُمَّ قَالَ پڑھائیں، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ هَكَذَا أُمِرْتُ كَذَلِكَ كَانَ بَشِيْرُ بْنُ نمازیں ان کے پیچھے) پڑھیں۔پھر (جبریل) نے أَبِي مَسْعُودٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيْهِ۔کہا: اس طرح نمازیں پڑھنے کا مجھے حکم ہوا ہے۔اسی طرح بشیر بن ابی مسعود بھی اپنے باپ سے یہی روایت بیان کرتے ہیں۔اطرافه: ۵۲۱، ۳۲۲۱