صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 81 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 81

صحيح البخاری جلد ۸ ΔΙ ۶۴ - کتاب المغازي حُذَافَةَ السَّهْمِي وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے ، رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے ، مدینہ میں انہوں شَهِدَ بَدْرًا تُوُفِّيَ بِالْمَدِينَةِ قَالَ عُمَرُ نے وفات پائی تو حضرت عمر بن خطاب) کہتے تھے: میں عثمان بن عفان سے ملا۔ان کے پاس حفصہ کا فَلَقِيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ ذکر کیا اور کہا کہ اگر آپ چاہیں تو حفصہ کا نکاح حَفْصَةَ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ أَنْكَحْتُكَ آپ سے کر دوں۔انہوں نے کہا: میں اس معاملہ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ قَالَ سَأَنْظُرُ فِي میں غور کروں گا۔چنانچہ میں کئی روز تک ٹھہرا رہا۔أَمْرِي فَلَبِثْتُ لَيَالِيَ فَقَالَ قَدْ بَدَا لِي پھر عثمان نے کہا: مجھے یہی مناسب معلوم ہوا ہے أَنْ لَّا أَتَزَوَّجَ يَوْمِي هَذَا قَالَ عُمَرُ کہ میں ان دِنوں شادی نہ کروں۔حضرت عمرؓ کہتے فَلَقِيْتُ أَبَا بَكْرٍ فَقُلْتُ إِنْ شِئْتَ تھے: پھر میں حضرت ابوبکر سے ملا اور کہا: اگر آپ أَنْكَحْتُكَ حَفْصَةَ بِنْتَ عُمَرَ فَصَمَتَ چاہیں تو میں حفصہ کا نکاح آپ سے کئے دیتا أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ يَرْجِعْ إِلَيَّ شَيْئًا فَكُنْتُ ہوں۔حضرت ابوبکر خاموش ہو گئے اور مجھے کچھ جواب نہ دیا۔عثمان کی نسبت میں ان سے زیادہ عَلَيْهِ أَوْجَدَ مِنِّي عَلَى عُثْمَانَ فَلَبِثْتُ رنجیدہ خاطر ہوا۔پھر میں کچھ راتیں ٹھہرا رہا۔اس لَيَالِيَ ثُمَّ خَطَبَهَا رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى الله کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حفصہ سے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ فَلَقِيَنِي نکاح کرنے کا پیغام بھیجا اور میں نے آپ سے ان کا أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لَعَلَّكَ وَجَدْتَ عَلَيَّ حِيْنَ نکاح کر دیا۔پھر حضرت ابو بکر مجھ سے ملے اور کہا: عَرَضْتَ عَلَيَّ حَفْصَةَ فَلَمْ أَرْجِعْ شاید آپ مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں جب آپ نے حفصہ کا ذکر کیا اور میں نے کچھ جواب نہ دیا۔میں رم إِلَيْكَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي نے کہا: جی ہاں۔انہوں نے کہا: دراصل جو بات آپ أَنْ أَرْجِعَ إِلَيْكَ فِيمَا عَرَضْتَ إِلَّا أَنِّي نے پیش کی تھی اس کی نسبت آپ کو جواب دینے سے قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ مجھے نہیں روکا تھا مگر اس بات نے کہ مجھے علم ہو چکا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ ذَكَرَهَا فَلَمْ أَكُنْ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حفصہ سے نکاح کرنا لِأُفْشِيَ سِرَّ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى الله چاہتے ہیں اور میں ایسا نہیں تھا کہ رسول اللہ صلی للی سیم کا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ تَرَكَهَا لَقَبِلْتُهَا۔یہ منشاء ظاہر کرتا اور اگر آنحضرت علی ای ام اس ( رشتہ ) کا خیال چھوڑ دیتے تو میں ضرور قبول کرتا۔اطرافه ۵۱۲۲، ۵۱۲۹، ۵۱۴۵