صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 79 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 79

صحیح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی أَسْنِمَتُهُمَا وَيُقِرَتْ خَوَاصِرُهُمَا وَأُخِذَ گئے ہیں جب میں نے یہ نظارہ دیکھا تو میں مِنْ أَكْبَادِهِمَا فَلَمْ أَمْلِكُ عَيْنَيَّ حِيْنَ آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکا، میں نے پوچھا: یہ کس رَأَيْتُ الْمَنْظَرَ قُلْتُ مَنْ فَعَلَ هَذَا نے کیا ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ حمزہ بن عبد المطلب قَالُوْا فَعَلَهُ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ نے کیا ہے اور وہ اس گھر میں انصاریوں کے وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ فِي شَرْبٍ مِّنَ ساتھ شراب پی رہے ہیں اور ان کے پاس ایک الْأَنْصَارِ وَعِنْدَهُ قَيْنَةٌ وَأَصْحَابُهُ فَقَالَتْ گانے والی لونڈی بھی ہے اور یار دوست ہیں۔فِي غِنَائِهَا: أَلَا يَا حَمْزَ لِلشَّرُفِ النِّوَاءِ لونڈی نے گاتے ہوئے کہا: اٹھو حمزہ ان موٹی فَوَثَبَ حَمْزَةُ إِلَى السَّيْفِ تازی بلند قامت اونٹنیوں پر لپکو۔یہ سن کر حمزہ نے أَسْمَتَهُمَا وَبَقَرَ خَوَاصِرَهُمَا وَأَخَذَ مِنْ لپک کر تلوار لی اور اُن اونٹنیوں کے کوہان کاٹ ڈالے اور کو کھیں چیر دیں اور ان دونوں کے کلیجے فَأَجَبْ أَكْبَادِهِمَا قَالَ عَلِيٌّ فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي لَقِيْتُ فَقَالَ مَا لَكَ قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ مَعَهُ نکال لئے۔حضرت علی کہتے تھے: یہ دیکھ کر میں وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ زَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ وَعَرَفَ چلا گیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور وہاں زید بن حارثہؓ بھی تھے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پہچان لیا کہ میں سخت رنجیدہ ہوں۔آپ نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ میں نے کہا: مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ عَدَا حَمْزَةُ عَلَى يارسول اللہ ! میں نے آج جیسا دن کبھی نہیں نَاقَتَيَّ فَأَجَبَّ أَسْنِمَتَهُمَا وَبَقَرَ دیکھا۔حمزہ نے میری اونٹنیوں پر ظلم ڈھایا اور اُن خَوَاصِرَهُمَا وَهَا هُوَ ذَا فِي بَيْتٍ کے کوہان کاٹ ڈالے اور ان کی کوکھیں پھاڑ شَرْبٌ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ ڈالیں۔دیکھئے وہ اس گھر میں ہیں اور ان کے ساتھ وَسَلَّمَ بِرِدَائِهِ فَارْتَدَى ثُمَّ انْطَلَقَ ہم مشرب ہیں۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی يَمْشِي وَاتَّبَعْتُهُ أَنَا وَزَيْدُ بْنُ حَارِثَةَ چادر طلب کی اور وہ اوڑھ لی۔آپ چل پڑے اور حَتَّى جَاءَ الْبَيْتَ الَّذِي فِيْهِ حَمْزَةُ میں اور زید بن حارثہ آپ کے پیچھے ہو لئے یہاں فَاسْتَأْذَنَ عَلَيْهِ فَأُذِنَ لَهُ فَطَفِقَ النَّبِيُّ تک کہ جب آپ اس گھر پر پہنچے جس میں حمزہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلُومُ حَمْزَةَ تھے ، آپ نے اجازت طلب کی۔آپ کو اجازت