صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 76
صحیح البخاری جلد ۸ ۷۶ ۴۰۰۰ ۶۴ - کتاب المغازی يحي بن بکیر نے ہم سے بیان کیا کہ لیث ٤٠٠٠ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ عُقَيْلٍ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ( بن سعد ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عقیل سے، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ عُقیل نے ابن نے ابن شہاب سے روایت کی، کہا: مجھ سے رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عروہ بن زبیر نے بیان کیا۔ انہوں نے نبی صلی اللہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ أَبَا حُذَيْفَةَ وَكَانَ مِمَّنْ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے شَهِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى الله روایت کی کہ حضرت ابوم ابو حذیفہ نے جو بدری صحابہ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبَنَّى سَالِمًا وَأَنْكَحَهُ میں سے تھے سالم کو متبنی بنایا وہ ایک انصاری بِنْتَ أَخِيهِ هِنْدًا بِنْتَ الْوَلِيدِ بْنِ عُتْبَةَ عورت کے غلام تھے ) اور اپنی بھیجی ہند بنت ولید ارم بن عتبہ سے ان کا نکاح کر دیا اور یہ ویسے ہی تھا وَهُوَ مَوْلًى لِامْرَأَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ كَمَا تَبَنَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن حارثہ) کو متبنیٰ بنایا تھا اور زمانہ جاہلیت میں جو وَسَلَّمَ زَيْدًا وَكَانَ مَنْ تَبَنَّى رَجُلًا آدمی بھی کسی کو اپنا بیٹا بنالیتا تو لوگ اس کی طرف فِي الْجَاهِلِيَّةِ دَعَاهُ النَّاسُ إِلَيْهِ منسوب کر کے اس کو پکارا کرتے تھے اور وہ اس وَوَرِثَ مِنْ مِيْرَائِهِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ کے ترکہ کا وارث ہو تا جب اللہ تعالیٰ نے یہ وحی تَعَالَى : ادْعُوهُمْ لِأَبَابِهِمْ (الأحزاب: ٦) نازل کی کہ ان کے باپوں کی طرف منسوب کر کے فَجَاءَتْ سَهْلَةُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ ان کو پکارا کرو تو حضرت سہلہ (حضرت ابو حذیفہ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ۔ طرفه ۵۰۸۸ کی بیوی) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور پھر حضرت عروہ بن زبیر نے ساری بات بیان کی۔ ٤٠٠١ : حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا بِشْرُ :۴۰۰۱ : علی بن عبد اللہ مدینی ) نے ہمیں بتایا۔ ہم بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ ذَكْوَانَ سے بشر بن مفضل نے بیان کیا کہ خالد بن ذکوان عَنِ الرُّبَيعِ بِنْتِ مُعَوِّدٍ قَالَتْ دَخَلَ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے حضرت ربیع بنت معوذ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے روایت کی، کہتی تھیں: نبی صلی الله ام اس صبح کو غَدَاةَ بُنِيَ عَلَيَّ فَجَلَسَ عَلَى فِرَاشِي میرے ہاں آئے جس میں میر از خصتانہ ہوا۔ آپ ريم