صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 1
صحیح البخاری جلد ۸ باس العالم ۶۴ - كتاب المغازی ٦٤ - كِتَابُ الْمَغَازِي مَغَازِی جمع ہے اور اس کا مفرد مغزی ہے۔ مَغْزی اور غزو مصدر ہیں۔ غزو کے معنی طلب کرنے اور قصد کرنے کے ہیں۔ چنانچہ کہتے ہیں : غَزَاهُ أَيْ طَلَبَهُ وَقَصَدَهُ : اسے طلب کیا اور اس کا ارادہ کیا۔ نیز کہتے ہیں: عَرَفْتُ مَا يُغْزَى مِنْ هَذَ الْكَلَامِ کہ مجھے اس کلام کا مقصد معلوم ہو گیا ہے۔ اس سے مَغزى الْكَلَامِ ہے جس کے معنی ہیں کلام کا مقصود، مدعا اور لب لباب۔ نیز کہتے ہیں : غَذَا الْعَدُو غَزُوا اور اس کے معنی ہوتے ہیں : سارَ إِلَى قِتَالِهِمْ - دشمن سے لڑنے کے لئے نکلا ( أقرب الموارد - غزو) غزوہ کے اصطلاحی معنی کوچ یا چڑھائی کے ہیں۔ اس لفظ کا یہ استعمال عوام میں رائج تھا۔ غزوہ میں ضروری نہیں کہ لڑائی ہی کے لئے کوچ کیا جائے۔ اس لئے غزوہ کا مفہوم لفظ ”مہم بخوبی ادا کرتا ہے۔ اس کتاب میں یہی لفظ اختیار کیا جارہا ہے۔ محدثین کی اصطلاح میں ”غزوہ “ وہ مہم ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی نکلے ہوں۔ جہاں آپ خود تشریف نہیں لے گئے ، اس کو ”سر یہ کہتے ہیں۔ ८८ بَاب ۱ : غَزْوَةُ الْعُشَيْرَةِ أَوِ الْعُسَيْرَةِ عشیره یا مسیرہ کا غزوہ قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ أَوَّلُ مَا غَزَا النَّبِيُّ ( محمد ) بن اسحاق نے کہا: پہلی مہم جو نبی صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَبْوَاءَ ثُمَّ علیہ وسلم نے اختیار کی وہ ابواء کی تھی۔ پھر اس بُوَاطَ ثُمَّ الْعُشَيْرَةَ۔ کے بعد بواط کی اور اس کے بعد عشیرہ کی۔ ٣٩٤٩ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ۳۹۴۹ : عبد الله بن محمد نے ہمیں بتایا۔ وہب نے حَدَّثَنَا وَهْبٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ ہم سے بیان کیا۔ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ ابو اسحاق سے مروی ہے۔ (انہوں نے کہا:) میں حضرت زید أَبِي إِسْحَاقَ كُنْتُ إِلَى جَنْبِ زَيْدِ بْنِ بن ارقم کے پہلو میں بیٹھا تھا تو اُن سے پوچھا گیا أَرْقَمَ فَقِيلَ لَهُ كَمْ غَزَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کتنی مہمات کے لیے عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَزْوَةٍ قَالَ تِسْعَ عَشْرَةَ نکلے؟ انہوں نے کہا: انیس۔ پھر اُن سے پوچھا گیا: