صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 73 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 73

صحيح البخاری جلد ۸ 41 ۶۴ - کتاب المغازی نور الدین کو بھی ملائکہ اللہ سے ہم کلام ہونے کا موقع ملا ہے اور نظام ملگی بہت وسیع نظام ہے۔انسان کے قوی اور ملکات میں سے ہر قوت و ملکہ کے لئے بھی ملائکہ متعین ہیں۔قوت بصر و بصیرت، قوت سمع و ساعت، قوت لمس و بطش اور عقل و شعور اور قوائے مفکرہ ومدبرہ کے ساتھ اگر ملائکتہ اللہ کی مدد اور ہم آہنگی نہ ہو تو یہ قوتیں بے کار بلکہ نقصان دہ ہو جاتی ہیں۔تیر یا گولی کی شست و نشست اس وقت اپنے نشانہ پر راس آسکتی ہے جب عقل و شعور اپنے ٹھکانے پر اور دور و نزدیک کے فاصلہ کا اندازہ صحیح ہو، اوسان بچاہوں، قوت قلبیہ بر قرار ہو ورنہ تیر خطا جائے گا۔فرمایا کرتے تھے: ایک ایک ذہنی اور جسمانی قوت کے ساتھ ملائکۃ اللہ متعین ہیں اور ان کا تعلق ہر انسان کی ہر قوت سے مختلف حالات کفر و ایمان میں کم و بیش ہوتا ہے۔قرآنِ مجید نے ان کی تعداد غزوہ بدر کے ذکر میں تین ہزار اور غزوہ احد میں پانچ ہزار بتائی ہے۔یہ فرق موقع و محل کے اختلاف اور اہمیت فرضِ منصبی کی وجہ سے ہے۔جنگ بدر میں دشمن کی تعداد کم اور جنگ احد میں زیادہ اور اسی نسبت سے خطرہ بھی زیادہ اور ملائکہ کی حفاظت بھی زیادہ تعداد میں نازل کئے جانے کا وعدہ تھا، فرماتا ہے : وَمَا النَّصْرُ الآمِنْ عِنْدِ اللهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ (ال عمران: ۱۲۷) موعودہ نصرت الہی کا ظہور اللہ تعالیٰ کی صفت عزیزیت اور صفت حکیمیت سے ہے۔یہ دونوں صفتیں حسن تدبیر اور کامل غلبہ واستحکام کی متقاضی ہیں جن میں اسباب نصرت کے تمام حلقے ایک دوسرے سے پیہم پیوست ہوتے ہیں۔ان میں تسلسل و احکام پایا جاتا ہے اور وہ محکم تدبیر الہی سے قوی و مضبوط کئے جاتے ہیں۔اس تعلق میں مفصل دیکھئے کتاب آئینہ کمالات اسلام (روحانی خزائن جلد ۵) جہاں نظام ملگی کے بارے میں سیر کن بحث کی گئی ہے۔باب ۱۲ ۳٩٩٦: حَدَّثَنِي خَلِيْفَةُ حَدَّثَنَا ۳۹۹۶ : خلیفہ بن خیاط) نے مجھے بتایا کہ محمد مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا بن عبد الله انصاری نے ہم سے بیان کیا۔سعید الله بن ابی عروبہ) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے قتادہ سَعِيْدٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ سے، قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے عَنْهُ قَالَ مَاتَ أَبُو زَيْدٍ وَلَمْ يَتْرُكْ روایت کی۔انہوں نے کہا کہ حضرت ابوزید عَقِبًا وَكَانَ بَدْريًّا۔اطرافه ۳۸۱۰، ۵۰۰۳، ۵۰۰۴ سورۃ آل عمران آیات ۱۲۲ تا ۱۲۶ (قیس بن سکن فوت ہو گئے اور انہوں نے اپنے پیچھے کوئی اولاد نہ چھوڑی اور وہ بدری تھے۔ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "اور (امر واقعہ یہ ہے کہ) مد د محض اللہ ہی کی طرف سے ملتی ہے جو کامل غلبہ والا (اور) حکمت والا ہے۔