صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 72 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 72

صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازي ضَرْبُ الْأَعْنَاقِ، ضَرْبُ الرقاب اور ضَرْبُ كُلَّ بَنَابٍ سے مراد زور دار حملہ ہے جس میں نشانہ کی صحت ملحوظ ہو۔روایات زیر باب میں فرشتوں کی موجودگی اور مشاہدے کا جو ذکر ہے وہ از قبیل مکاشفات ہے اور ان ذکر۔کی جنگ بھی اسی قسم کی ہے جو اُن کے مناسب حال ہے نہ تیر و تفنگ کی اور ان کا مشاہدہ روحانی بینائی سے ہوتا ہے نہ جسمانی آنکھ سے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مشاہدہ فرمایا اور صحابہ کرام نے بھی اور ایسا مشاہدہ اولیاء اللہ کو بھی ہوتا ہے۔ملائکتہ اللہ ہی کے تصرف میں سے تھا کہ عمائد قریش واقعہ نخلہ سے مشتعل ہو کر اپنے طیش میں آپے سے باہر ہو گئے اور یہی واقعہ بعد کی جنگوں کا ایک سبب بنا جن میں کفار قریش کی ہلاکت سے متعلق تقدیر الہی پوری ہوئی۔ملائکۃ اللہ کا طریق کار ہمارے طریق کار سے جدا اور ان کا اسلوب جنگ ہمارے اسلوب جنگ سے نرالا ہے۔بدر کے مقام پر دشمن کا عقنقل ( تو ده ریگ) کے فراز میں پڑاؤ کرنا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نشیب وادی میں اترنا ہے اور صحابہ کرام کی قلیل تعداد کادشمن کی نظر سے اوجھل رہنا، بادوباراں کا ظہور، صحابہ کرام کے ایک ایک تیر کا اپنے نشانہ پر ٹھیک بیٹھنا اور کاری ثابت ہونا، دشمن کی سراسیمگی اور صحابہ کرام کی دلجمعی ، یہ سب ملائکتہ اللہ کے تصرف کا کرشمہ تھا جس کی خبر اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان الفاظ میں دی تھی: اِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبِّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي ميدكُم بِأَلْفِ مِنَ الْمَلَكَةِ مُردِفِينَ ) (الأنفال (۱۰) (اور اس وقت کو بھی یاد کرو) جبکہ تم اپنے رب سے التجائیں کرتے تھے اس پر تمہارے رب نے تمہاری دعاؤں کو سنا (اور کہا کہ میں تمہاری مدد ہزاروں فرشتوں سے کروں گا۔جن کا لشکر کے بعد لشکر بڑھ رہا ہو گا۔دعاء نبوی کی قبولیت سے ظاہری اسباب میں جو جنبش پیدا ہوئی اس کے اندر ایک عجیب تسلسل دکھائی دیتا ہے۔اس کے حصوں پر یکجائی نظر ڈالنے سے ملائکہ اللہ کا لشکر بیکراں کار فرما نظر آتا ہے۔کس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو نازک گھڑی میں بحفاظت مکہ مکرمہ سے نکالا اور کس نے اہل مکہ کو غافل رکھا اور پھر کس نے انہیں غار ثور تک لا کر آپ کے تعاقب سے قریش کو نا امید واپس لوٹا دیا اور کس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بحفاظت مدینہ منورہ پہنچایا جو اسلام کی ترقی کا اہم مرکز بنا۔حضرت عباس کا ہجرت کے بعد مکہ مکرمہ میں بحالت شرک رہنا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ولی ہمدردی رکھنا اور آپ کو مدینہ منورہ میں قریش مکہ کے بد ارادوں اور منصوبوں سے آگاہ کرتے رہنا بھی ملائکتہ اللہ کے تصرف کا ایک حصہ ہے۔ان سب واقعات کے پس پردہ ملائکہ ہی کی تحریک کار فرما تھی۔آنحضرت صلی اللہ نام کے غزوات اور فتح و ظفر مندی کا پس منظر ایمان افروز آیت أَنِّي مُسِدُّكُمْ بِالْفِ مِنَ الْمَلَكَةِ مُرْدِ فِيْنَ (الأنفال: 10) کی تفسیر پیش کرتا ہے۔میں نے صحیح بخاری مکمل حضرت خلیفہ اول مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ سے سبق سبقا پڑھی ہے اور اسی طرح قرآن مجید بھی کئی بار در ساور سانسنا اور پڑھا ہے ، آپ ملائکۃ اللہ کے تعلق میں فرمایا کرتے تھے: 1۔(السيرة النبوية لابن هشام، غزوة بدر الكبرى، نزول قريش بالعدوة والمسلمین ببدر، جزء ۲ صفحه ۲۶۲) الطبقات الكبرى لابن سعد، ذكر عدد مغازی رسول الله، غزوة بدر ، جزء ۲، صفحه (۱۴) ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع ” میں ضرور ایک ہزار قطار در قطار فرشتوں سے تمہاری مدد کروں گا“