صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 69
صحيح البخاری جلد ۸ ۶۹ ۶۴ - کتاب المغازی میں چشمہ رجیع تھا۔عسفان بستی بھی اسی علاقہ میں ہے۔آج کل کے نقشہ میں اسے اصفان لکھا جاتا ہے۔جہاں سے هد آہ کی بستی سات میل تھی۔(عمدۃ القاری جزء ۱ صفحه (۱۰۰) عسفان مکہ سے شمال کی طرف اور طائف جنوب مشرق میں اور مکہ مکرمہ ان کے درمیان ہے۔چشمہ رجمیع عسفان اور مکہ کے درمیان ہے۔اس مقام پر پہنچ کر بنو لحیان کے دو سو نوجوانوں نے مسلمانوں پر حملہ کر دیا۔بھلا دس آدمی دوصد سپاہیوں کا مقابلہ کیا کر سکتے تھے لیکن مسلمانوں کو ہتھیار ڈالنے کی تعلیم نہیں دی گئی تھی، فوراً یہ صحابہ ایک قریبی ٹیلہ پر چڑھ گئے اور مقابلہ کے لئے تیار ہو گئے۔کفار نے جن کے نزدیک دھوکہ دینا کوئی معیوب فعل نہیں تھا ان کو آواز دی کہ تم پہاڑی پر سے اتر آؤ ہم تم سے پختہ عہد کرتے ہیں کہ تمہیں قتل نہیں کریں گے۔حضرت عاصم نے جواب دیا کہ ہمیں تمہارے عہد و پیمان کا کوئی اعتبار نہیں۔ہم تمہاری اس ذمہ داری پر نہیں اتر سکتے۔غرض حضرت عاصم اور ان کے ساتھیوں نے مقابلہ کیا اور لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔جب سات صحابہ مارے گئے اور صرف حضرت خبیب بن عدی اور حضرت زید بن دشتہ اور ایک اور صحابی باقی رہ گئے تو کفار نے جن کی خواہش ان لوگوں کو زندہ پکڑنے کی تھی پھر آواز دے کر کہا کہ ہم تمہیں امان دیں گے تم نیچے اتر آؤ۔اب کی دفعہ مسلمان ان کے پھندے میں آگئے اور جونہی وہ ٹیلہ سے نیچے اترے کفار نے ان کو اپنی تیر کمانوں کی تندیوں سے جکڑ کر باندھ لیا اور اپنے ساتھ چلنے کو کہا لیکن ایک صحابی حضرت عبد اللہ نے ان کے ساتھ چلنے سے انکار کر دیا جس پر کفار نے انہیں قتل کر کے پھینک دیا اور حضرت خبیب اور حضرت زید کو ساتھ لے کر مکہ روانہ ہوئے اور وہاں پہنچ کر انہیں قریش کے ہاتھ فروخت کر دیا۔حضرت خبیب کو تو حارث بن عامر بن نوفل کے لڑکوں نے خرید لیا کیونکہ حضرت خبیب نے غزوہ بدر میں حارث بن عامر کو قتل کیا تھا جو سردارانِ قریش میں سے تھا۔اور حضرت زیڈ کو صفوان بن امیہ نے خریدا۔اس کے بعد اس روایت میں حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی شہادت کا واقعہ مفصل طور پر مذکور ہے۔مزید تفصیل کے لیے دیکھئے سیرت خاتم النبیین صل ال کل صفحه ۱۳ ۵ تا۵۱۶ غزوہ بدر کے ذکر میں یہ سارا واقعہ اس لئے بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عاصم، حضرت خبیب اور حضرت زید رضی اللہ عنہم سب مجاہدین بدر میں شامل تھے۔بقول ابن اسحاق حضرت عاصم نے غزوہ بدر میں عقبہ بن ابی معیط کو قتل کیا تھا۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۳۸۷) ان کے مختصر دستہ پر حملہ آوروں کی تعداد مذکورہ بالا روایت میں یک صد بیان کی گئی ہے اور بعض روایات میں دو صداے جن میں سے ایک صد تیر انداز تھے۔(فتح الباری شرح کتاب المغازی باب غزوة الرجمیع، جزءے صفحہ ۴۷۶ روایت نمبر ۳۹۹۰ میں حضرت سعید بن زید کی اور روایت نمبر ۳۹۹۱ میں حضرت سعد بن خولہ کی وفات کا ذکر ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ وہ بدری صحابہ میں سے تھے۔روایت نمبر ۳۹۸۶ میں غزوہ احد کے واقعہ کا ذکر ضمنا کیا گیا ہے۔71 غزوہ اُحد کے ذیل میں تفصیلاً اس کا ذکر آئے گا۔(دیکھئے باب ۱۷ روایت نمبر ۴۰۴۳، باب ۲۰ روایت نمبر ۴۰۶۷) غرض مذکورہ بالا روایتیں متفرق واقعات بدر پر مشتمل ہیں۔اس لئے اس باب کا کوئی خاص عنوان قائم نہیں کیا گیا۔! (بخاری، کتاب الجهاد والسير ، باب ۱۷۰ : هل يستأسر الرجل ومن لم يستأسر ، روایت نمبر ۳۰۴۵)