صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 68 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 68

صحيح البخاری جلد ۸ ۶۸ ۶۴ - کتاب المغازی روایت نمبر ۳۹۸۸ کا تعلق ابو جہل کے قتل سے ہے۔یہ روایت کتاب فرض الخمس ( باب ۱۸) میں بھی گذر چکی ہے۔وہاں بیان میں قدرے اضافہ ہے۔روایت نمبر ۳۹۸۹ کا تعلق سریہ عاصم بن ثابت سے ہے۔جنگ اُحد میں قریش مکہ اپنی مزعومہ کامیابی کے بعد مغرور ہو گئے اور انہوں نے مسلمانوں کے خلاف عرب قبائل کو اکسانا شروع کر دیا۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے نے اپنی تصنیف ”سیرت خاتم النبیین صلی علیم میں اس واقعہ کے متعلق تحریر فرمایا ہے: یہ دن مسلمانوں کے لیے سخت خطرہ کے دن تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چاروں طرف سے متوحش خبریں آرہی تھیں۔لیکن سب سے زیادہ خطرہ آپ کو قریش مکہ کی طرف سے تھا۔۔۔اس خطرہ کو محسوس کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ صفر ۴ ہجری میں اپنے دس صحابیوں کی ایک پارٹی تیار کی اور ان پر عاصم بن ثابت کو امیر مقرر فرمایا اور اُن کو یہ حکم دیا کہ وہ خفیہ خفیہ مکہ کے قریب جاکر قریش کے حالات دریافت کریں اور اُن کی کارروائیوں اور ارادوں سے آپ کو اطلاع دیں۔لیکن ابھی یہ پارٹی روانہ نہیں ہوئی تھی کہ قبائل عضل اور قارہ کے چند لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے قبائل میں بہت سے آدمی اسلام کی طرف مائل ہیں ، آپ چند آدمی ہمارے ساتھ روانہ فرمائیں جو ہمیں مسلمان بنائیں اور اسلام کی تعلیم دیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی یہ خواہش معلوم کر کے خوش ہوئے اور وہی پارٹی جو خبر رسانی کے لئے تیار کی گئی تھی، ان کے ساتھ روانہ فرما دی۔(سیرت خاتم النبیین صلی المی صفحه ۵۱۳) لیکن ن عضل اور قارہ کے یہ لوگ اپنی درخواست میں مخلص نہیں تھے بلکہ جھوٹے اور دغا باز تھے۔در حقیقت یہ لوگ بنو لحیان کی انگیخت پر مدینہ آئے تھے جن کا سردار سفیان بن خالد مسلمانوں کے ہاتھوں قریبی عرصہ میں مارا گیا تھا اور بنو لحیان یہ چاہتے تھے کہ کسی بہانہ سے مسلمانوں کو مدینہ سے نکالا جائے اور ان پر حملہ کر کے ان کو مار دیا جائے اور اس طور پر اپنے رئیس کے مارے جانے کا بدلہ لے لیا جائے۔چنانچہ اس قبیلہ کے لوگوں نے عضل اور قارہ کے لوگوں کے لئے بہت سے اونٹ انعام کے طور پر مقرر کئے کہ اگر وہ کسی بہانہ سے کچھ مسلمانوں کو مدینہ سے باہر لے آویں تو ان کو خطیر انعام دیا جائے گا۔اس مقصد کے لیے انہوں نے مذکورہ بالا سازش کی اور دس قراء صحابہ کو تبلیغ تعلیم و تربیت کے نام پر لے آئے۔جو نہی یہ لوگ عسفان اور مکہ کے درمیان حد او مقام پر پہنچے تو عضل اور قارہ کے لوگوں نے بنو لحیان کو خفیہ خفیہ اطلاع بھجوا دی کہ مسلمان ہمارے ساتھ آرہے ہیں جس پر قبیلہ لحیان کے دو سو نوجوان جن میں سے ایک سو تیر انداز تھے، مسلمانوں کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے اور مقام رجمیع میں ان کو گھیر لیا۔صداہ مکہ مکرمہ کے قریب قبیلہ ہذیل کا علاقہ تھا، بنو لحیان اس قبیلہ کی شاخ تھی۔اس علاقہ کے ابتدائی حصہ ل (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، كتاب المغازي، بعث الرجيع، جزء ۲ صفحه ۴۷۴ تا ۴۸۰)