صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 67
صحیح البخاری جلد ۸ ۶۷ ۶۴ - كتاب المغازي اس شعر میں مقتولین بدر کا ذکر ہے اور ان کی تعداد ستر بتائی گئی ہے۔ یہ مرثیہ یوں شروع ہوتا ہے: طَرَقَتْ هُمُومُكَ فَالرُّقَادُ مُسَهَّدُ وَجَزِعْتَ أَنْ سُلِخَ الشَّبَابُ الْأَغْيَدُ وَدَعَتْ فُؤَادَكَ لِلْهَوَى ضَمْرِيَّةٌ فَهَوَاكَ غَوْرِيٌّ وَصَحْوُكَ مُنْجِدُ یعنی رات تیری یاد کے خیالات نے میرے دروازے کو کھٹکھٹایا اور میں جاگ پڑا اور میری اس شخص کی سی حالت ہوگئی جس کی نیند اڑ گئی ہو۔ پھر تیرے اس واویلے کی آواز آئی کہ پرکیف اور راحت افزاء شباب چھین لیا گیا اور ضمریہ نے تیرے دل کو محبت و الفت کی دعوت دی۔ پس تیرا یہ عشق گھٹیا قسم کا ہے اور اب تیرے ہوش میں آجانے ہی سے بلندی کی پرواز حاصل ہو سکتی ہے۔ اگرچہ ایسے قصائد شک کی نظر سے دیکھے گئے ہیں کہ وہ بعد کے شعراء کا تخیل ہیں۔ لیکن دوسری مستند روایتوں اور قرائن سے مقتولین کی مذکورہ بالا تعداد درست معلوم ہوتی ہے۔ امام ابن حجر نے بھی مذکورہ بالا شعر نقل کیا ہے لیکن ابن ہشام کی سیرت میں الطَّعْنُ الْمُطَعَنُ کی بجائے الْعَطَنُ الْمُعَظَنُ ہے۔ عطن کے معنی تعفن کے ہیں اور چمڑے کو پانی میں دباغت کی غرض سے ڈالنے کو بھی کہتے ہیں۔ تَعْطِینَ عَطَن سے باب تفعیل ہے۔ فَأَقَامَ بِالْعَطَنِ الْمُعَطَّنِ سے کفار کی ستر لاشیں کنویں میں ڈالے جانے کی طرف اشارہ ہے اور عُتبہ سے مراد عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس اور اسود سے مراد اسود بن عبد الاسد بن ہلال محرومی ہے۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۳۸۴) یعنی یہ لوگ بھی ان میں شامل تھے جن کو کنویں میں ڈالا گیا۔ ایت نمبر ۳۹۸۷ مختصر ہے۔ یہ روایت ہجرت کے کے تعلق میں گزر چکی ہے۔ 1۔ اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک رویا اور اس کی تعبیر کا ذکر ہے۔ غزوہ بدر اس خیر کثیر کا آغاز ہے جس کا وعدہ سورۃ النساء میں مومنوں سے ان الفاظ میں کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: فَضَّلَ اللهُ الْمُجْهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقَعِدِينَ دَرَجَةً وَكُلًّا وَعَدَ اللهُ الْحُسْنى (النساء : (۹) پھر فرمایا: وَ مَنْ يُهَاجِرُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَجِدُ فِي الْأَرْضِ مُرْغَمًا كَثِيرًا وسعة (النساء :(۱۰۱) سے اس خواب کا ذکر آئندہ کتاب التعبير باب ۳۹ (إِذَا رَأَ: رَأَى بَقَرًا تُنْحَرُ اور باب ۴۴ إِذَا هَزَّ سَيْفًا فِي الْمَنَامِ) میں آئے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں گائیں دیکھیں اور ان سے شہدائے أحمد مراد لئے اور خیر دیکھا اور فتح مکہ مراد لی۔ ا۔ (صحيح البخاری، کتاب المناقب، باب علامات النبوة في الإسلام، روایت نمبر ۳۶۲۲) ८८ ترجمه حضرت خليفة المسيح الرابع: اللہ نے اپنے اموال اور اپنی جانوں کے ذریعہ جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر ایک نمایاں مرتبہ عطا کیا ہے جبکہ ہر ایک سے اللہ نے بھلائی کا ہی وعدہ کیا ہے۔ اللہ کی راہ میں ہجرت کرے تو وہ زمین میں دشمن کے ن میں دشمن کو نامراد اور جو اللہ ترجمه حضرت خليفة المس يفة المسيح الرابع : ) کرنے کے بہت سے مواقع اور فراخی پائے گا۔