صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 66
صحیح البخاری جلد ۸ ۶۶ ۶۴ - کتاب المغازی نے صحابہ کرام کو پیش قدمی سے روکا تا وہ علی وجہ البصیرت دفاع کر سکیں۔اس سے قبل آپ نے جو دفاعی منصوبہ اختیار کیا تھا اس میں راز داری سے کام لیا اور دشمن کو معلوم تک نہیں ہونے دیا کہ آپ کا مقصود تجارتی قافلہ ہے یا ہتھیار بند فوج سے نبرد آزمائی۔اس طرح دشمن شش و پنج میں رہا اور اس کی توجہ وطاقت دو جہت میں بٹ گئی اور جنگ بدر کے وقت آپ نے جہاں اپنی فوج اُتاری اور مورچے قائم کئے ، اس سے دشمن کو آپ کی فوج کا پورا اندازہ نہ ہوسکا۔مذکورہ بالا ہدایت بھی اسی تدبیر کا حصہ ہے۔اس کے برعکس کفار قریش نے جلد بازی سے کام لیا اور ہزیمت اٹھائی۔روایت نمبر ۳۹۸۵ میں لفظ أَكْثَبُوكُمْ کے جو معنی أَكْثَرُوكُمْ کے کئے گئے ہیں یہ بقول ابن حجر راوی کی طرف سے ہیں جو درست نہیں۔لغت میں اکتب کے معنی ہیں وہ قریب ہوا اور عَن كَتَب کے معنی ہیں قریب سے۔چنانچہ کہتے ہیں: اكْتَبَ الصَّيْدُ : إِذَا امْكَنَ مِنْ نَفْسِهِ یعنی شکار اتنا قریب ہو گیا کہ اس نے اپنے آپ کو شکاری کی زد میں کر دیا۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۳۸۳) (أقرب الموارد - كشب) ابوداود کی روایت میں آکفَرُ وكُم کی جگہ عَشُوكُمْ ہے یعنی تم پر امڈ آئیں۔اے تیسری روایت (نمبر ۳۹۸۶) میں کفار کے جانی نقصان کا ذکر ہے کہ جنگ بدر میں ستر کفار مارے گئے اور ستر قید ہوئے۔ان کا کل نقصان ایک صد چالیس کا ہوا۔سیرت نگاروں نے پچاس مقتول شمار کئے ہیں۔واقدی نے تین یا چار کا ان پر اضافہ کیا ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ جن مقتولین کا علم ہو گیا اُن کے علاوہ کفار میں سے اور کوئی قتل نہیں ہوا۔غزوات سے متعلق واقعات ڈیڑھ سو سال بعد قلم بند کئے گئے۔پس ان حالات میں سب مقتولین کے نام کیسے محفوظ رہ سکتے تھے۔ابن ہشام نے جنگ احد میں مسلمانوں کے جانی نقصان کی تعداد معین طور پر ستر بیان کی ہے اور قرآن مجید کی آیت اَو لَمَّا أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَدْ أَصَبْتُمْ مِثْلَيْهَا (آل عمران: ۱۶۶) سے ظاہر ہے کہ غزوہ بدر میں کفار کا نقصان مسلمانوں کے اُحد والے جانی نقصان سے دو گنا ہوا تھا۔قیدیوں کی تعداد ستر تھی۔اس لئے مقتولین کی تعداد کا اندازہ ستر ہی بنتا ہے۔امام ابن حجر نے حضرت براء بن عازب کی مذکورہ شہادت زیر روایت نمبر ۳۹۸۶ کو قابل اعتماد قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس کی اس روایت سے بھی ان کی تصدیق ہوتی ہے جو امام مسلم اپنی صحیح میں لائے ہیں۔سے اس کے علاوہ دوسرے راویوں کے بیان سے بھی اس امر کی تائید ہوتی ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۳۸۴) حضرت کعب بن مالک نے حضرت حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ کی شہادت پر ایک مرثیہ لکھا جو ابن ہشام میں درج ہے۔ان میں ایک شعر یہ بھی ہے جو فتح الباری کے مصنف نے نقل کیا ہے: فَأَقَامَ بِالطَّعْنِ الْمُطَمَّنِ مِنْهُمْ سَبْعُونَ عُتْبَةٌ مِنْهُمْ وَالْأَسْوَدُ (سنن ابی داود، کتاب الجهاد، باب في الصفوف) (فتح الباری جزء۷ صفحه ۳۸۴) ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : کیا جب بھی تمہیں کوئی ایسی مصیبت پہنچے کہ تم اس سے دگنی (دشمن کو) پہنچا چکے ہو۔(مسلم، كتاب الجهاد، باب الإمداد بالملائكة في غزوة بدر )