صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 65
صحیح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازي وَأَتَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مُجھ سے یہ کہا اور شام کا وقت ہوا تو میں نے کپڑے وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَفْتَانِي اوڑھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی اور آپ سے اس بارے میں پوچھا۔آپ نے مجھے بِأَنِّي قَدْ حَلَلْتُ حِيْنَ وَضَعْتُ حَمْلِي وَأَمَرَنِي بِالتَّزَوجِ إِنْ بَدَا لِي۔یہ فتویٰ دیا کہ جب بچہ پید ا ہو گیا ہے تو میں آزاد ہوں اور فرمایا: اگر میں مناسب سمجھوں تو نکاح کرلوں۔تَابَعَهُ أَصْبَغُ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ (لیث کی طرح) اصبغ بن فرج نے بھی اسے روایت کیا ہے۔انہوں نے (عبد اللہ ) بن وہب سے، يُونُسَ۔طرفه ۵۳۱۹ انہوں نے یونس سے یہ حدیث روایت کی۔وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنِ اور لیث نے کہا: یونس نے مجھے بتایا کہ ابن شہاب ابْنِ شِهَابٍ وَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ أَخْبَرَنِي سے یہی مروی ہے اور ہم نے ابن شہاب سے مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَن بْن ثَوْبَانَ پوچھا تو انہوں نے کہا: محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان مَوْلَى بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيّ أَنَّ مُحَمَّدَ نے جو بنو عامر بن ٹوٹی کے آزاد کردہ غلام تھے، بْنَ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ وَكَانَ أَبُوهُ شَهدَ مجھے بتایا کہ محمد بن ایاس بن نگیر نے انہیں خبر دی بَدْرًا أَخْبَرَهُ۔اور ان کے باپ جنگ بدر میں شریک تھے۔تشریح یہ باب بھی بلا عنوان ہے اور اس کے تحت آٹھ روایتیں ہیں جن کا تعلق غزوہ بدر کے حالات سے ہے۔پہلی دو روایتوں میں استعمال اسلحہ سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کا ذکر ہے۔بعض شارحین نے فارموهُمْ وَاسْتَبْقُوا نَبْلَكُمْ سے یہ مراد لی ہے کہ جب دشمن قریب ہو تو سنگ باری سے کام لو، اس وقت تیر اندازی سے اپنے تیر ضائع نہ کرنا۔امام ابن حجر نے یہ تشریح قبول نہیں کی۔ان کے نزدیک دوسرا جملہ پہلے جملہ کی توضیح ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ تیر ضائع نہ ہونے دو تا دشمن ان سے فائدہ نہ اٹھائے ، اسے آگے بڑھنے دو اور جب قریب ہو جائیں اور زد میں آجائیں تو اُن پر تیر چلاؤ ( فتح الباری جزء۷ صفحه ۳۸۳) کامیاب سپہ سالار وہی ہوتا ہے جو اپنی فوج اور اسلحہ دونوں سے پوری ہوشیاری کے ساتھ کام لے۔روایت نمبر ۳۹۸۴ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جس ارشاد کا ذکر ہے وہ دونوں امور سے متعلق ہے۔روایت نمبر ۳۹۸۵ سے ظاہر ہے کہ آپ نے صحابہ کرام کو پیش قدمی سے روکا اور فرمایا: کفار قریش کو آگے بڑھنے دو اور جب وہ زد میں آجائیں تو اپنے تیر چلاؤ۔کفار قریش مسلمانوں سے تین گنا سے بھی زیادہ تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم