صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 65 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 65

صحیح البخاری جلد ۸ V ۶۵ ۶۴ - کتاب المغازی وَأَتَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ مجھ سے یہ کہا اور شام کا وقت ہوا تو میں نے کپڑے وَسَلَّمَ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ فَأَفْتَانِي اوڑھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی بِأَنِّي قَدْ حَلَلْتُ حِيْنَ وَضَعْتُ حَمْلِي اور آپ سے اس بارے میں پوچھا۔ آپ نے مجھے وَأَمَرَنِي بِالتَّزَوُّحِ إِنْ بَدَا لِي۔ اور فرمایا: اگر میں مناسب سمجھوں تو نکاح کرلوں۔ یہ فتوی دیا کہ جب بچہ پیدا ہو گیا ہے تو میں آزاد ہوں تَابَعَهُ أَصْبَعُ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ عَنْ (لیث کی طرح) اصبغ بن فرج نے بھی اسے روایت يُونُسَ۔ طرفه ۵۳۱۹ کیا ہے۔ انہوں نے (عبداللہ ) بن وہب سے، انہوں نے یونس سے یہ حدیث روایت کی۔ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنِ اور لیث نے کہا: یونس نے مجھے بتایا کہ ابن شہاب ابْنِ شِهَابٍ وَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ أَخْبَرَنِي سے یہی مروی ہے اور ہم نے ابن شہاب سے مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ پوچھا تو انہوں نے کہا: محمد بن عبد الرحمن بن ثوبان مَوْلَى بَنِي عَامِرِ بْنِ لُؤَيِّ أَنَّ مُحَمَّدَ نے جو بنو عامر بن لوٹی کے آزاد کردہ غلام تھے، بْنَ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ وَكَانَ أَبُوهُ شَهِدَ مجھے بتایا کہ محمد بن ایاس بن بکیر نے انہیں خبر دی بَدْرًا أَخْبَرَهُ۔ اور ان کے باپ جنگ بدر میں شریک تھے۔ تشریح یہ باب بھی بلا عنوان ہے اور اس کے تحت آٹھ رو روایتیں ہیں جن کا تعلق غزوہ بدر کے حالات سے ہے۔ پہلی دو روایتوں میں استعمال اسلحہ سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایات کا ذکر ہے۔ ا بعض شارحین نے فَأَرُمُوهُمْ وَاسْتَبْقُوا نَبْلَكُمْ سے یہ مراد لی ہے کہ جب دشمن قریب ہو تو سنگ باری سے کام لو ، اس وقت تیر اندازی سے اپنے تیر ضائع نہ کرنا۔ امام ابن حجر نے یہ تشریح قبول نہیں کی۔ ان کے نزدیک دوسرا جملہ پہلے جملہ کی توضیح ہے اور اس سے مراد یہ ہے کہ تیر ضائع نہ ہونے دو تا دشمن ان سے فائدہ نہ اٹھائے ، اسے آگے بڑھنے دو اور جب قریب ہو جائیں اور زد میں آجائیں تو ان پر تیر چلاؤ۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۳۸۳) کامیاب سپہ سالار وہی ہوتا ہے جو اپنی فوج اور اسلحہ دونوں سے پوری ہوشیاری کے ساتھ کام لے۔ روایت نمبر ۳۹۸۴ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جس ارشاد کا ذکر ہے وہ دونوں امور سے متعلق ہے۔ روایت نمبر ۳۹۸۵ سے ظاہر ہے کہ آپ نے صحابہ کرام کو پیش قدمی سے روکا اور فرمایا: کفار قریش کو آگے بڑھنے دو اور جب وہ زد میں آجائیں تو اپنے تیر چلاؤ۔ کفار قریش مسلمانوں سے تین گنا سے بھی زیادہ تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم