صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 63 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 63

صحيح البخاری جلد ۸ ۶۳ ۶۴ - کتاب المغازی حِيْنَ حُدِثُوْا أَنَّهُ قُتِلَ أَنْ يُؤْتَوْا بِشَيْءٍ قریش کے لوگوں کو جب یہ بتایا گیا کہ عاصم بن ثابت مِّنْهُ يُعْرَفُ وَكَانَ قَتَلَ رَجُلًا عَظِيمًا قتل کر دئے گئے ہیں تو انہوں نے کچھ لوگ بھیجے جو حضرت عاصم کی لاش سے اس قدر حصہ کاٹ کر مِنْ عُظَمَائِهِمْ فَبَعَثَ اللَّهُ لِعَاصِمٍ لائیں جس سے وہ پہچانے جائیں کیونکہ حضرت عاصم مِثْلَ الظُّلَّةِ مِنَ الدَّبْرِ فَحَمَتْهُ مِنْ نے اُن کے سرداروں میں سے ایک بڑے شخص کو رُّسُلِهِمْ فَلَمْ يَقْدِرُوْا أَنْ يَقْطَعُوْا مِنْهُ قتل کیا تھا۔اللہ نے حضرت عاصم پر بھڑوں کا ایک شَيْئًا۔وَقَالَ كَعْبُ بْنُ مَالِكِ ذَكَرُوا دَل بادل کی طرح بھیج دیا جس نے قریش کے بھیجے مُرَارَةَ بْنَ الرَّبِيعِ الْعَمْرِيُّ وَهِلَالَ بْنَ ہوئے آدمیوں سے انہیں بچایا۔اس لئے وہ ان کے أُمَيَّةَ الْوَاقِفِيَّ رَجُلَيْنِ صَالِحَيْن قَدْ جسم کا کوئی حصہ بھی نہ کاٹ سکے۔حضرت کعب بن مالک کہتے تھے کہ لوگوں نے مرارہ بن ربیع عمری اور ہلال بن امیہ واقعی کا بھی ذکر کیا ہے جو دو نیک شخص تھے کہ وہ بھی جنگ بدر میں شریک ہوئے تھے۔شَهِدَا بَدْرًا۔اطرافه ۳۰۴۵، ۴۰۸۶، ۷۲۰۲ ۳۹۹۰ حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْتْ ۳۹۹۰ : قتیبہ بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ لیث عَنْ يَحْيَى عَنْ نَّافِعِ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے يجي (بن سعید انصاری) سَعِيد سے، انہوں نے نافع سے روایت کی کہ حضرت رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ذُكِرَ لَهُ أَنَّ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے جمعہ کے دن کسی نے ذکر بْنَ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلِ وَكَانَ کیا کہ حضرت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل جو بدری بَدْرِيًّا مَرِضَ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ فَرَكِبَ صحابی ہیں وہ بیمار ہیں۔چنانچہ حضرت ابن عمر سوار إِلَيْهِ بَعْدَ أَنْ تَعَالَى النَّهَارُ وَاقْتَرَبَتِ ہوکر (ان کی عیادت کے لئے ) ان کے پاس گئے الْجُمْعَةُ وَتَرَكَ الْجُمُعَةَ۔جبکہ دن بہت چڑھ چکا تھا اور جمعہ کا وقت قریب تھا۔انہوں نے (حضرت سعید بن زید کی بیماری کی وجہ سے ) جمعہ چھوڑ دیا۔:۳۹۹۱ وَقَالَ اللَّيْثُ حَدَّثَنِي يُونُسُ ۳۹۹۱ اور لیٹ ( بن سعد) نے کہا: یونس نے عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ ابن شہاب سے روایت کرتے ہوئے مجھے بتایا کہ