صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 62
صحيح البخاری جلد ۸ ۶۲ ۶۴ - کتاب المغازي وَكَانَتْ تَقُوْلُ إِنَّهُ لَرِزْقٌ رَزَقَهُ اللهُ وقت لوہے کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور بِهِ مِنَ الْحَرَمِ اُن دِنوں مکہ میں کوئی پھل نہ تھا۔اور کہتی تھی : وہ حُبَيْبًا فَلَمَّا خَرَجُوْا بِهِ مِنَ ایسا رزق تھا جو اللہ تعالیٰ نے خبیب کو دیا۔جب اُن لِيَقْتُلُوهُ فِي الْحِلِ قَالَ لَهُمْ حُبَيْبٌ کو حرم کی سرحد سے باہر لے کر گئے تا اُن کو ایسی جگہ دَعُونِي أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ فَتَرَكُوْهُ فَرَكَعَ قتل کریں جہاں قتل جائز ہے۔حضرت خبیب نے رَكْعَتَيْنِ فَقَالَ وَاللهِ لَوْلَا أَنْ تَحْسِبُوا ان سے کہا: مجھے دو رکعت نماز پڑھ لینے دو۔انہوں نے اجازت دے دی۔حضرت خبیب نے دو رکعتیں أَنَّ مَا بِي جَزَعٌ لَزِدْتُ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ اراکیں۔پھر کہنے لگے : بخدا! اگر یہ بات نہ ہوتی کہ أَحْصِهِمْ عَدَدًا وَاقْتُلْهُمْ بَدَدًا وَلَا تُبْقِ تم لوگ یہ خیال کرو گے کہ جو میری حالت نماز میں مِنْهُمْ أَحَدًا ثُمَّ أَنْشَأَ يَقُوْلُ: تھی وہ موت کی گھبراہٹ کی وجہ سے ہے تو میں زیادہ پڑھتا، پھر کہنے لگے: اے اللہ ! ان میں سے ایک بھی جانے نہ پائے اور انہیں پراگندہ کر کے ہلاک کر اور ان میں سے کوئی باقی نہ چھوڑ۔پھر یہ شعر پڑھنے لگے: فَلَسْتُ أُبَالِي حِيْنَ أُقْتَلُ مُسْلِمًا جبکہ میں مسلمان ہو کر مارا جارہا ہوں مجھے پرواہ نہیں عَلَى أَي جَنْبِ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي خواہ کسی کروٹ پر اللہ کیلئے گروں اور یہ میراگر نا خدا وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَّشَأْ کی خاطر ہے اور اگر وہ چاہے تو اُن جوڑوں میں يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوِ مُّمَزَّع برکت دے دے جو ٹکڑے ٹکڑے ہو چکے ہوں۔ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ أَبُو سِرْوَعَةَ عُقْبَةُ بْنُ اس کے بعد ابو سرویہ عقبہ بن حارث ان کے پاس الْحَارِثِ فَقَتَلَهُ وَكَانَ حُبَيْبٌ هُوَ سَنَّ گیا اور اُس نے انہیں قتل کر دیا اور حضرت خبیب ہی لِكُلِّ مُسْلِمٍ قُتِلَ صَبْرًا الصَّلَاةَ وَأَخْبَرَ وہ ہیں جنہوں نے ہر ایسے مسلمان کیلئے جو بے بسی کی حالت میں مارا جائے یہ نمونہ قائم کیا کہ وہ ( دو رکعت) يَعْنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نماز ادا کرے۔اور نبی علی ایم نے اپنے صحابہ کو أَصْحَابَهُ يَوْمَ أُصِيْبُوْا خَبَرَهُمْ وَبَعَثَ حضرت عاصم اور اُن کے ساتھیوں کے شہید ہونے نَاسٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى عَاصِمِ بْنِ ثَابِتٍ کی اسی دن خبر دے دی تھی جب وہ شہید ہوئے۔