صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 61
صحیح البخاری جلد ۸ וד ۶۴ - کتاب المغازی أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ فَرَبَطُوْهُمْ بِهَا قَالَ یہ (تمہاری) پہلی بد عہدی ہے، اللہ کی قسم! میں الرَّجُلُ الثَّالِثُ هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ وَاللهِ تمہارے ساتھ نہیں جاؤں گا۔ میرے لئے ان لَا أَصْحَبُكُمْ إِنَّ لِي بِهَؤُلَاءِ أَسْوَةً لوگوں میں نمونہ ہے یعنی ان لوگوں میں جو شہید ہو چکے تھے۔ انہوں نے انہیں گھسیٹا اور اُن سے يُرِيدُ الْقَتْلَى فَجَرَّرُوْهُ وَعَالَجُوْهُ فَأَبَى کشمکش کی، انہوں نے اُن کے ساتھ جانے سے ہر أَنْ يَصْحَبَهُمْ فَانْطَلِقَ بِخُبَيْبِ وَزَيْدِ طرح انکار کیا (آخر کار انہوں نے حضرت عبد اللہ بْنِ الدَّثِنَةِ حَتَّى بَاعُوْهُمَا بَعْدَ وَقْعَةِ بن طارق کو مار ڈالا۔ پھر وہ حضرت حبیب اور مار حضرت زید بن دشتہ کو اپنے ساتھ لے گئے اور بدر بَدْرٍ فَابْتَاعَ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ عَامِرِ کی جنگ کے بعد ان اُن دونوں کو بیچ لوچ دیا۔ بنو حارث بن بْنِ نَوْفَلٍ خُبَيْبًا وَكَانَ حُبَيْبٌ هُوَ عامر بن نوفل نے حضرت خبیب کو خریدا اور حضرت قَتَلَ الْحَارِثِ بْنَ عَامِرٍ يَوْمَ بَدْرٍ حبیب ہی تھے جنہوں نے حارث بن عامر کو جنگ فَلَبِثَ حُبَيْبٌ عِنْدَهُمْ أَسِيرًا حَتَّى بدر کے دن قبل کیا تھا۔ چنانچہ حضرت حبیب ان کے پاس قیدی رہے۔ آخر انہوں نے ان کو مار ڈالنے أَجْمَعُوْا قَتْلَهُ فَاسْتَعَارَ مِنْ بَعْضِ ، فیصلہ کیا۔ حضرت خبیب نے حارث کی ایک بیٹی کا بَنَاتِ الْحَارِثِ مُوسَى يَسْتَحِدُّ بِهَا سے اُسترا عاریہ مانگا کہ اس سے ناف کے بال فَأَعَارَتْهُ فَدَرَجَ بُنَيَّ لَّهَا وَهِيَ غَافِلَةٌ صاف کریں۔ اُس نے اُن کو اُسترا عاریہ دے دیا۔ حَتَّى أَتَاهُ فَوَجَدَتْهُ مُجْلِسَهُ عَلَی اس کا ایک چھوٹا بچہ رینگتے ہوئے حضرت خبیب کے فَخِذِهِ وَالْمُوسَى بِيَدِهِ قَالَتْ فَفَزِعْتُ پاس آیا اور وہ بے خبر تھی، اس نے حضرت خبیب کو دیکھا کہ وہ اپنی ران پر اُس کو پر اُس کو بٹھائے ہوئے ہیں فَزْعَةً عَرَفَهَا حُبَيْبٌ فَقَالَ أَتَخْشَيْنَ اور اُسترا اُن کے ہاتھ میں ہے کہتی تھی: میں یہ دیکھ أَنْ أَقْتُلَهُ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ ذَلِكَ کر ایسی گھبرائی کہ حبیب نے میری گھبراہٹ معلوم قَالَتْ وَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا قَطُّ خَيْرًا کرلی اور کہا: کیا تم ڈرتی ہو کہ میں اسے مار ڈالوں گا؟ میں ایسا کبھی نہیں کرنے کا کہتی تھی: اللہ کی قسم! میں مِنْ حُبَيْبِ وَاللَّهِ لَقَدْ وَجَدْتُهُ يَوْمًا نے خبیث سے بڑھ کر نیک قیدی کبھی نہیں دیکھا۔ يَأْكُلُ قِطْفًا مِنْ عِنَبٍ فِي يَدِهِ وَإِنَّهُ اللہ کی قسم! ایک دن میں نے انہیں دیکھا کہ انگور کا لَمُوْثَقٌ بِالْحَدِيدِ وَمَا بِمَكَّةَ مِنْ ثَمَرَةٍ خوشہ ہاتھ میں لئے انگور کھا رہے تھے اور وہ اس