صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 60 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 60

صحيح البخاری جلد ۸ ۶۰ ۶۴ - کتاب المغازی ان کے تعاقب کے لئے نکلے اور ان کا کھوج لگانے وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ عاصم بن عمر بن خطاب کے نانا تھے جب وہ عسفان الْأَنْصَارِيَّ جَدَّ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ اور مکہ کے درمیان ہداہ کے مقام پر پہنچے تو کسی نے الْخَطَّابِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْهَدَةِ لَ بذیل کے ایک قبیلے سے جسے بنو لحیان کہتے تھے، (ان کا ذکر کر دیا۔وہ تقریباً ایک سو تیر انداز لے کر بَيْنَ عُسْفَانَ وَمَكَّةَ ذُكِرُوْا لِحَيِّ مِّنْ هُدَيْلِ يُقَالُ لَهُمْ بَنُولِحْيَانَ فَنَفَرُوا لگے۔آخر انہوں نے ایک ایسے مقام پر جہاں وہ لَهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامِ اُترے تھے وہ جگہ پالی جہاں انہوں نے کھجوریں فَاقْتَصُّوْا آثَارَهُمْ حَتَّى وَجَدُوا کھائی تھیں۔کہنے لگے : یہ یثرب کی کھجوریں ہیں۔مَأْكَلَهُمُ التَّمْرَ فِي مَنْزِلِ نَزَلُوْهُ چنانچہ یہاں سے وہ ان کے قدموں کے نشانوں پر فَقَالُوْا تَمْرُ يَشْرِبَ فَاتَّبَعُوْا آثَارَهُمْ اُن کے پیچھے گئے۔جب حضرت عاصم اور اُن کے فَلَمَّا حَسَّ بِهِمْ عَاصِمٌ وَأَصْحَابُهُ ساتھیوں نے ان کی آہٹ پائی تو وہ ایک جگہ پناہ گزیں ہو گئے۔ان لوگوں نے ان کو گھیر لیا اور ان سے کہنے لَجَنُوْا إِلَى مَوْضِع فَأَحَاطَ بِهِمُ الْقَوْمُ لگے : تم نیچے اتر آؤ اور اپنے آپ کو ہمارے سپرد کر دو فَقَالُوْا لَهُمْ انْزِلُوا فَأَعْطُوْا بِأَيْدِيْكُمْ اور تم سے یہ پختہ عہد و پیمان ہے کہ ہم تم میں سے کسی تم وَلَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيْنَاقُ أَنْ لَّا نَقْتُلَ کو بھی قتل نہیں کریں گے۔حضرت عاصم بن ثابت نے مِنْكُمْ أَحَدًا فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ یہ سن کر کہا: اے لوگو! میں تو کسی کافر کی پناہ میں أَيُّهَا الْقَوْمُ أَمَّا أَنَا فَلَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ نہیں اتروں گا۔پھر انہوں نے دعا کی: اے اللہ اپنے كَافِرٍ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا نَبِيَّكَ في صلى علیکم کو ہماری حالت سے آگاہ کر۔بنولحیان ان صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَمَوْهُمْ پر تیر چلانے لگے اور حضرت عاصم کو مار ڈالا اور تین شخص عہد و پیمان پر بھروسہ کر کے ان کے پاس بِالنَّبْل فَقَتَلُوْا عَاصِمًا وَنَزَلَ إِلَيْهِمْ اُتر آئے۔حضرت خبیب اور حضرت زید بن دشته نیز ثَلَاثَةٌ نَفَرٍ عَلَى الْعَهْدِ وَالْمِيْثَاقِ ایک اور شخص۔جب بنو لحیان نے ان پر قابو پالیا تو مِنْهُمْ حُبَيْب وَزَيْدُ بْنُ الدَّئِنَةِ وَرَجُلٌ اُن کی کمانوں کی تندیاں کھول کر انہیں باندھ لیا۔آخَرُ فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوْا مِنْهُمْ أَطْلَقُوا تیسرے شخص (حضرت عبد اللہ بن طارق) نے کہا: 1 عمدۃ القاری میں بالهداة ہے (عمدۃ القاری جزء اصفحہ 19) یہ واقعہ جہاں ہوا وہ مقام هدأة کہلا تا ہے جو عسفان اور مکہ کے درمیان ہے جبکہ هَدَة مقام اور ہے جو مکہ اور طائف کے درمیان ہے۔( معجم البلدان هدأة )