صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 60
صحیح البخاری جلد ۸ ۶۰ ۶۴ - کتاب المغازی وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ عَاصِمَ بْنَ ثَابِتٍ عاصم بن عمر بن خطاب کے نانا تھے جب وہ عسفان الْأَنْصَارِيَّ جَدَّ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ اور مکہ کے درمیان ہداہ کے مقام پر پہنچے تو کسی نے الْخَطَّابِ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْهَدَةِ ۔ بذیل کے ایک قبیلے سے جسے بنو لحیان کہتے تھے، ( ان کا) ذکر کر دیا۔ وہ تقریباً ایک سو تیر انداز لے کر بَيْنَ عُسْفَانَ وَمَكَّةَ ذُكِرُوا لِحَيِّ مِّنْ ان کے تعاقب کے لئے نکلے اور ان کا کھوج لگانے هُذَيْلٍ يُقَالُ لَهُمْ بَنُولِحْيَانَ فَتَفَرُوا گئے۔ آخر انہوں نے ایک ایسے مقام پر جہاں وہ لَهُمْ بِقَرِيبٍ مِنْ مِائَةِ رَجُلٍ رَامِ اُترے تھے وہ جگہ پالی جہاں انہوں نے کھجوریں فَاقْتَصُّوْا آثَارَهُمْ حَتَّى وَجَدُوا کھائی تھیں۔ کہنے لگے: یہ یثرب کی کھجوریں ہیں۔ مَا كَلَهُمُ التَّمْرَ فِي مَنْزِلِ نَزَلُوْهُ چنانچہ یہاں سے وہ ان کے قدموں کے نشانوں پر فَقَالُوْا تَمْرُ يَشْرِبَ فَاتَّبَعُوْا آثَارَهُمْ اُن کے پیچھے گئے۔ جب حضرت عاصم اور اُن کے فَلَمَّا حَسَّ بِهِمْ عَاصِمٌ وَأَصْحَابُهُ ساتھیوں نے ان کی آہٹ پائی تو وہ ایک جگہ پناہ گزیں ہو گئے۔ ان لوگوں نے ان کو گھیر لیا اور ان سے کہنے لگے : تم نیچے اُتر آؤ اور اپنے آپ کو ہمارے سپرد کر دو لَجَنُوْا إِلَى مَوْضِعِ فَأَحَاطَ بِهِمُ الْقَوْمُ فَقَالُوْا لَهُمْ انْزِلُوا فَأَعْطُوْا بِأَيْدِيكُمْ اور تم سے یہ پختہ عہد و پیمان ہے کہ ہم تم میں سے کسی وَلَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيْثَاقُ أَنْ لَّا نَقْتُلَ کو بھی قتل نہیں کریں گے۔ حضرت عاصم بن ثابت نے مِنْكُمْ أَحَدًا فَقَالَ عَاصِمُ بْنُ ثَابِتٍ یہ سن کر کہا: اے لوگو ! میں تو کسی کافر کی پناہ میں أَيُّهَا الْقَوْمُ أَمَّا أَنَا فَلَا أَنْزِلُ فِي ذِمَّةِ نہیں اتروں گا۔ پھر انہوں نے دعا کی: اے اللہ اپنے كَافِرٍ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ أَخْبِرُ عَنَّا نَبِيَّكَ ملی ایم کو ہماری حالت سے آگاہ کر۔ بنو لحیان ان علیه صد الله سلم کو مار ڈالا اور صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَمَوْهُمْ پر تیر چلانے لگے اور حضرت عاصم کو مار بِالنَّبْلِ فَقَتَلُوْا عَاصِمًا وَنَزَلَ إِلَيْهِمْ تین شخص عہد و پیمان پر بھروسہ کر کے ان کے پاس اُتر آئے۔ حضرت خبیب اور اور حضرت زید بن دشنه نیز ثَلَاثَةُ نَفَرٍ عَلَى الْعَهْدِ وَالْمِيْثَاقِ ایک اور شخص ۔ جب بنوا اور شخص ۔ جب بنو لحیان نے ان پر قابو پالیا تو مِنْهُمْ حُبَيْبٌ وَزَيْدُ بْنُ الدَّيْنَةِ وَرَجُلٌ اُن کی کمانوں کی تندیاں کھول کر انہیں باندھ لیا۔ آخَرُ فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوْا مِنْهُمْ أَطْلَقُوا تیرے شخص (حضرت عبد اللہ بن طارق) نے کہا: ا عمدة القاری میں بِالهَدَأَةِ ہے ( عمدۃ القاری جزء ۷ اصفحہ ۹۹) یہ واقعہ جہاں ہوا وہ مقام هداة کہلاتا ہے جو عسفان اور مکہ کے درمیان ہے؟ ہے جبکہ هَدة مقام اور ہے جو مکہ اور لہ اور طائف کے درمیان ہے۔ ( معجم البلد ان هدأة )