صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 56 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 56

صحيح البخاری جلد ۸ ۵۶ ۶۴ - کتاب المغازی شریح : فَضْلُ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا : جنگ بدر میں شامل ہونے والوں کی فضیلت مندرجہ بالا دونوں احادیث میں بیان شدہ واقعات سے ظاہر ہے۔پہلی حدیث میں یہ ذکر ہے کہ جنگ بدر میں صرف شمولیت کی وجہ سے حضرت حارثہ جنت الفردوس میں داخل ہوئے ، ان کو لڑنے کا موقع نہیں ملا، وہ کم عمر لڑکے تھے اور جنگ دیکھنے والوں میں سے تھے۔وہ ایک حوض پر پانی پی رہے تھے کہ اُن کو کفار کی طرف سے آنے والا تیر لگا اور وہ شہید ہو گئے۔(عمدۃ القاری جزء۷ اصفحہ (۹۴) دوسری حدیث میں یہ ذکر ہے کہ حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کی کمزوری قابل عفو سمجھی گئی کیونکہ وہ جنگ بدر میں شریک ہوئے اور اس جنگ میں صرف وہی شریک ہوا جو انتہائی قربانی کی روح رکھنے والا تھا۔اس حدیث سے ظاہر ہے کہ بدری صحابیوں کا درجہ اتنا بڑا ہے کہ ان کی کمزوریاں بھی قابل عفو ہیں۔لَعَلَّ الله اطلع کے فقرہ میں لعل کا استعمال شاید کے مفہوم میں نہیں، یہ انداز بیان وثوق، امید اور پسندیدگی کے معانی کا جامع ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہو گیا کہ حاطب بن ابی بلتعہ کی نیت درست ہے۔ان کا انداز فکر بشریت کی عام کمزوری تھی جو اِعْمَلُوا ما شفتم کی استثناء میں داخل ہے۔79 اِعْمَلُوا مَا ستتم سے یہ مراد نہیں کہ بدری صحابہ کو اجازت ہو گئی تھی کہ وہ خلاف شریعت افعال کا ارتکاب کر لیں۔اگر یہ مفہوم ہوتا تو حضرت عمر قدامہ پر جو بدری صحابی ہیں، ان کے شراب پینے کی وجہ سے تعزیر عائد نہ کرتے۔(فتح الباری جزء صفحہ ۳۸۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس آیت کا حوالہ دیا ہے، اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کے اس سلوک سے ہے جو آخرت میں صراط مستقیم پر چلنے والوں سے کیا جائے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : أَفَمَن يُنقى في النَّارِ خَير أم مَنْ يَأْتِي أَمِنَّا يَوْمَ الْقِيمَةِ اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ إِنَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيره ( حم السجدة : ٢١) یعنی کیا وہ شخص جو دوزخ میں ڈالا جائے زیادہ اچھا ہے یا وہ جو قیامت کے دن امن کے ساتھ (ہمارے پاس آئے۔(اے لوگو ! ) جو کچھ چاہو کرو، اللہ تمہارے اعمال کو اچھی طرح دیکھ رہا ہے۔امام ابن حجر وغیرہ نے اس آیت سے یہی استدلال کیا ہے کہ ان سے نیکی ہی سرزد ہوگی۔مغفرت الہی سے مادہ گناہ دنیا ہی میں مٹ جائے گا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل بدر سے متعلق یہی امید ظاہر فرمائی کہ خدا تعالیٰ دنیا ہی میں انہیں اپنی مغفرت سے نوازے گا۔آیت اعْمَلُوا ما شتم کا حوالہ دے کر بدری صحابیوں کے بارے میں جس نیک توقع کا اظہار کیا گیا ہے اس سے ارتکاب گناہ کی اجازت مراد لینا غلط استنباط ہے۔باب ۱۰ ٣٩٨٤ : حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۳۹۸۴ عبد اللہ بن محمد جعفی نے مجھ سے بیان کیا الْجُعْفِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ که ابو احمد زبیری ( محمد بن عبد اللہ بن زبیر) نے ابواحمد حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْغَسِيْل عَنْ ہمیں بتایا کہ عبد الرحمن بن غسیل نے ہم سے بیان بتایا